SIR Campaign

حیدرآباد ۔ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے ایس آئی آر مہم کے نفاذ میں لاپروائی برتنے والے کانگریس رہنماؤں کو سخت کارروائی کا انتباہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس معاملے میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی ہدایات پر عمل نہ کرنے یا مہم کو سنجیدگی سے نہ لینے والے رہنماؤں کے خلاف سخت قدم اٹھائے جا سکتے ہیں۔

ایس آئی آر مہم پر منعقدہ زوم میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے اس مسئلے کو انتہائی سنجیدہ قرار دیا اور وزراء، ارکان اسمبلی، ارکان پارلیمنٹ اور حلقہ انچارجوں کو زیادہ مستعد رہنے کی ہدایت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض قائدین مہم کو مطلوبہ اہمیت نہیں دے رہے، جبکہ اگر اس غفلت سے پارٹی مفادات کو نقصان پہنچا تو کانگریس خاموش نہیں رہے گی۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ان کے پاس پارٹی کی جانب سے اضلاع کی سطح پر چلائے گئے بیداری پروگراموں کی تفصیلی رپورٹ موجود ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تلنگانہ بھر میں عوامی رابطہ مہم کو مزید وسیع کیا جائے اور انچارج وزراء اس بات کی خصوصی ذمہ داری لیں کہ ایس آئی آر مہم مؤثر انداز میں لوگوں تک پہنچے۔

ایس آئی آر مہم کی نگرانی مزید سخت | SIR Campaign

ریونت ریڈی نے کہا کہ اگر ایس آئی آر مہم کے نفاذ کو درست انداز میں نہیں سنبھالا گیا تو اس کے منفی اثرات غریب عوام پر پڑ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر اہل ووٹروں کے نام انتخابی ریکارڈ سے خارج ہو گئے تو اس سے آدھار کارڈ، راشن کارڈ اور مختلف فلاحی سہولتوں تک رسائی سے متعلق مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات براہ راست عام لوگوں کی زندگی پر مرتب ہوں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی کے تمام اراکین کے لیے تنظیمی ہدایات پر مکمل عمل ضروری ہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے خبردار کیا کہ جو رہنما مہم کے سلسلے میں پارٹی کی ہدایات کو نظر انداز کریں گے، انہیں تبدیل کر کے نئے انچارج مقرر کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لاپروائی دکھانے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور آئندہ 10 دن میں کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

گاؤں گاؤں بیداری پروگرام تیز کرنے کی ہدایت | SIR Campaign

وزیر اعلیٰ نے پارٹی نمائندوں، بشمول سرپنچوں، کو بھی ہدایت دی کہ وہ دیہات میں بیداری پروگرام منعقد کریں اور عوام کو ایس آئی آر مہم کی اہمیت سے آگاہ کریں۔ ان کے مطابق یہ صرف ایک تنظیمی مہم نہیں بلکہ ایسا معاملہ ہے جس کا تعلق عوامی نمائندگی، انتخابی شمولیت اور فلاحی حقوق کے تحفظ سے بھی ہے۔

چنانچہ ریونت ریڈی کے تازہ انتباہ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ کانگریس قیادت اس مہم کو محض رسمی سرگرمی کے طور پر نہیں دیکھ رہی بلکہ اسے سیاسی اور عوامی دونوں اعتبار سے انتہائی اہم سمجھتی ہے۔ اسی لیے پارٹی قیادت اب ضلعی سطح سے لے کر گاؤں کی سطح تک مہم کی پیش رفت، عوامی رسائی اور رہنماؤں کی سنجیدگی کو کڑی نگرانی میں رکھنے کے موڈ میں دکھائی دے رہی ہے۔