حیدرآباد: تلنگانہ جاگروتی کی صدر کے۔ کویتا نے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کرناٹک حکومت سے الماٹی منصوبے کی اونچائی کم کرنے کی واضح یقین دہانی حاصل کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ جنوبی تلنگانہ کے اضلاع کو خشک سالی کے خطرے میں ڈال سکتا ہے، اس لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
پس منظر | Almatti Project
کویتا نے ایک بیان میں کہا کہ وزیراعلیٰ کو اپنے کرناٹک کے دورے کے دوران تلنگانہ کے آبی حقوق کا دفاع کرنا چاہیے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ “ایکس” پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا، “دورے کے دوران ملک ارجن کھڑگے سے درخواست کریں کہ وہ مداخلت کریں اور الماٹی منصوبے کی اونچائی میں کمی لائیں۔”
کویتا نے الزام عائد کیا کہ ریونت ریڈی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جبکہ یہ منصوبہ تلنگانہ کے جنوبی اضلاع کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ “جب دونوں ریاستوں میں کانگریس کی حکومت ہے اور پارٹی قیادت دونوں پر اثر رکھتی ہے تو وزیراعلیٰ تلنگانہ کے مفادات پر بات کیوں نہیں کر رہے؟”
کویتا کا تنقیدی مؤقف | Almatti Project
کویتا نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ کا بنگلورو جانا زیادہ تر سیاسی بات چیت کے لیے تھا، نہ کہ تلنگانہ کے مسائل حل کرنے کے لیے۔ انہوں نے زور دیا کہ “کھڑگے گارو سے ملاقات کریں، الماٹی منصوبے کی اونچائی کا مسئلہ وہیں حل کریں، اور واضح یقین دہانی کے بغیر واپس نہ آئیں۔”
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کو کھڑگے سے کرناٹک حکومت کے لیے براہِ راست ہدایت حاصل کرنی چاہیے اور واپسی پر عوام کے سامنے اعلان کرنا چاہیے کہ الماٹی منصوبے کی اونچائی کم کی جائے گی۔
کسانوں کی فکر اور حتمی انتباہ | Almatti Project
کویتا نے انتباہ دیا کہ اگر حکومت نے بروقت اقدام نہ کیا تو اس تاخیر سے جنوبی تلنگانہ کے کسانوں کو نقصان پہنچے گا اور خطہ خشک سالی کا شکار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وزیراعلیٰ صرف اُس وقت تلنگانہ واپس آئیں جب الماٹی منصوبے کی اونچائی میں کمی کا اعلان ہو جائے۔”
