Read in English  
       
Telangana Comparison

حیدرآباد ۔ سی پی آئی کے قومی سکریٹری کے نارائنا نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ تیجسوی سوریا کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے تلنگانہ کی تشکیل کو ہند پاک تقسیم سے جوڑنے پر شدید تنقید کی۔ مزید برآں، اس بیان کے بعد سیاسی ماحول میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

پس منظر کے طور پر نارائنا نے یاد دلایا کہ بی جے پی کی سینئر قیادت نے ماضی میں تلنگانہ بل کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے سشما سوراج اور وینکیا نائیڈو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پارٹی کا مؤقف مختلف تھا۔ تاہم، موجودہ بیانات اس پالیسی سے متصادم دکھائی دیتے ہیں۔

تلنگانہ موازنہ پر سوالات | Telangana Comparison

نارائنا نے مطالبہ کیا کہ وینکیا نائیڈو اور جی کشن ریڈی تیجسوی سوریا کے بیان پر وضاحت دیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بی جے پی اب تلنگانہ کی حمایت کو غلطی سمجھتی ہے۔ اسی لیے، انہوں نے پارٹی کے اندر تضاد کو نمایاں کیا۔

مزید برآں، انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق حکومت “بلا اصول سیاست” کر رہی ہے۔ لہٰذا، انہوں نے حکومتی فیصلوں پر سنجیدہ سوالات اٹھائے۔

خواتین ریزرویشن اور حد بندی پر اعتراض | Telangana Comparison

نارائنا نے خواتین ریزرویشن بل کو حد بندی کے ساتھ جوڑنے کی مخالفت کی۔ انہوں نے اسے “کھیر میں زہر ملانے” کے مترادف قرار دیا۔ مزید یہ کہ، انہوں نے کہا کہ اس طرح عوام کو زبردستی ایک متنازع پالیسی قبول کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ خواتین کو ریزرویشن دینا ایک جائز مطالبہ ہے۔ تاہم، اس پر عمل درآمد میں تاخیر کو انہوں نے خواتین کے ساتھ ناانصافی قرار دیا۔ نتیجتاً، انہوں نے اسے دباؤ ڈالنے کی ایک شکل بھی کہا۔

اختتامیہ طور پر نارائنا نے خدشہ ظاہر کیا کہ حد بندی کا عمل مستقبل میں شمال اور جنوب کے درمیان تقسیم کو بڑھا سکتا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس معاملے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو سیاسی اختلافات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔