Read in English  
       
IAS Transfers

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے مقصد سے کئی آئی اے ایس افسران کے تبادلے اور نئی تقرریوں کے احکامات جاری کیے ہیں۔ اس رد و بدل میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے تحت حال ہی میں قائم کیے گئے نئے زونز بھی شامل ہیں۔

حکومتی احکامات کے مطابق جیش رنجن کو میٹروپولیٹن ایریا کے لیے اسپیشل چیف سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں محکمہ سیاحت کے اسپیشل چیف سیکریٹری کی ذمہ داری بھی برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ شہری نظم و نسق اور سیاحتی ترقی میں ہم آہنگی کے لیے کیا گیا ہے۔

اسی دوران ہریتا کا تبادلہ راجنا سرسلہ ضلع کلکٹر کے عہدے سے کر دیا گیا ہے۔ انہیں تلنگانہ پبلک سروس کمیشن کی سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم گریمہ اگروال کو راجنا سرسلہ کی ضلع کلکٹر کے طور پر برقرار رکھا گیا ہے۔

اہم تقرریاں اور نئی ذمہ داریاں | IAS Transfers

حکومت نے ایک اور اہم فیصلے میں ای وی نرسمہا ریڈی کو موسیٰ ندی ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا منیجنگ ڈائریکٹر مقرر کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس تقرری کا مقصد ندی کی بحالی اور ترقیاتی منصوبوں کو رفتار دینا ہے۔

اس کے علاوہ جی ایچ ایم سی کے تحت قائم 12 نئے زونز کے لیے آئی اے ایس افسران کو زونل کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے حکومت شہری نظم و نسق کو غیر مرکزی بنانے اور مقامی سطح پر فیصلہ سازی کو مؤثر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

جی ایچ ایم سی کے نئے زونل کمشنرز | IAS Transfers

سرِلِنگم پلی زون کی ذمہ داری ہیمنت سہادیو راؤ کو سونپی گئی ہے، جبکہ کوکٹ پلی زون کے لیے اپوروا چوہان کو مقرر کیا گیا ہے۔ قطب اللہ پور زون کی قیادت سندیپ سلطانیہ کو دی گئی ہے۔

اسی طرح چارمینار زون کے زونل کمشنر ایس سرینواس ریڈی ہوں گے، جبکہ گولکنڈہ زون کی ذمہ داری جی مکُند ریڈی کو سونپی گئی ہے۔ خیرت آباد زون کے لیے پرینکا کو تعینات کیا گیا ہے۔

راجندر نگر زون میں انوراگ جینتی کو زونل کمشنر بنایا گیا ہے، جبکہ سکندرآباد زون کی ذمہ داری این روی کرن کو دی گئی ہے۔ شمس آباد زون کی قیادت کے چندرکلا کریں گی۔

حکومت نے ایل بی نگر زون کے لیے ہیمنت کیشو پٹیل، ملکاجگیری زون کے لیے سنچت گنگوار اور اپل زون کے لیے رادھیکا گپتا کو زونل کمشنر مقرر کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس بڑے انتظامی رد و بدل کا مقصد جی ایچ ایم سی حدود میں تال میل بہتر بنانا اور شہری خدمات کی فراہمی کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق نئی تقرریوں سے ترقیاتی کاموں میں تیزی آنے کی توقع ہے۔