حیدرآباد: سابق وزیر اور بی آر ایس قائد ملا ریڈی نے کہا کہ صنعتی علاقوں میں اراضی کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں مزدوروں کو 20 فیصد حصہ ملنا چاہیے۔ انہوں نے حیدرآباد میں مزدور یونینوں کے ساتھ راؤنڈ ٹیبل میٹنگ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ مطالبہ اُس وعدے سے جڑا ہے جو پہلے فلم ورکرز کے بارے میں کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق مزدوروں کو حصہ نہ دینا صنعتی علاقوں میں مزید عدم تحفظ پیدا کرے گا۔
ملا ریڈی نے کہا کہ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے ماضی میں فلم کارکنوں کے لیے ٹکٹ قیمت بڑھنے پر 20 فیصد فائدے کا وعدہ کیا تھا۔ اسی بنیاد پر انہوں نے دلیل دی کہ صنعتی زونز میں کام کرنے والے مزدور بھی اراضی کی فروخت کے وقت مساوی سلوک کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس مقصد کے لیے قانون سازی کرسکتی ہے اور اس کے بعد فروخت کے معاملات آگے بڑھائے جائیں۔
صنعتی اراضی اور وسیع تر مزدور مسائل – Industrial Rights
ملا ریڈی نے مرکز کی جانب سے متعارف کردہ نئے قوانین پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ یہ مزدوروں کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے مزدور تنظیموں سے کہا کہ وہ چوکس رہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ میں ای ایس آئی مراکز میں بنیادی ادویات کی کمی ہے، جس کی وجہ سے مزدور مناسب طبی سہولت سے محروم ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق صنعتی یونٹوں کی فروخت اُن خاندانوں کو براہ راست متاثر کرے گی جو اپنی آمدنی کے لیے ان پر منحصر ہیں۔
مزدوروں کے ساتھ یکجہتی اور سیاسی موقف – Industrial Rights
ملا ریڈی نے کہا کہ وہ ریاست اور مرکز، دونوں سطحوں پر مزدور مخالف پالیسیوں کی مخالفت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں احتجاج کے لیے جانے والے مزدوروں کی مدد کے لیے وہ 10 لاکھ روپے فراہم کریں گے۔
ان کے مطابق بی آر ایس مزدور تنظیموں کے ساتھ کھڑی رہے گی اور ان کے حقوق کی جدوجہد میں ہر محاذ پر تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ معاشی تحفظ اور برابری مزدوروں کا بنیادی حق ہے اور اس کے لیے موثر قانون سازی ناگزیر ہے۔
