Read in English  
       
India Growth Outlook

حیدرآباد ۔ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل نے عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث بھارت کی اقتصادی ترقی کی شرح سے متعلق اپنی پیش گوئی کم کردی ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق 2026-27 مالی سال میں بھارتی معیشت کی ترقی کی رفتار سست رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

ایجنسی نے اپنی تازہ رپورٹ میں 2026-27 کے لیے بھارت کی جی ڈی پی شرح نمو 6.6 فیصد مقرر کی ہے، جبکہ اس سے قبل یہی تخمینہ 7.1 فیصد بتایا گیا تھا۔ تاہم، موجودہ مالی سال 2025-26 کے دوران بھارتی معیشت کی شرح نمو 7.6 فیصد رہنے کی پیش گوئی برقرار رکھی گئی ہے۔

ایس اینڈ پی گلوبل نے کہا کہ بدلتے ہوئے بین الاقوامی حالات اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال نے معاشی تخمینوں پر اثر ڈالا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر بڑھتی کشیدگی معیشت پر دباؤ میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ | India Growth Outlook

رپورٹ میں کہا گیا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی عالمی سپلائی چین کو متاثر کرسکتی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ مزید برآں، بڑھتی ہوئی تیل قیمتیں بھارت کے درآمدی اخراجات میں اضافہ کریں گی۔

ایجنسی کے مطابق خام تیل مہنگا ہونے سے افراط زر میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عوامل اقتصادی ترقی کی رفتار کو مزید سست کرسکتے ہیں۔

ایس اینڈ پی گلوبل نے اپنی “انڈیا فارورڈ” رپورٹ میں کہا کہ “وکست بھارت 2047” ہدف حاصل کرنے کے لیے بھارت کو سالانہ 8 فیصد سے زیادہ شرح نمو برقرار رکھنا ضروری ہوگا۔ اسی لیے رپورٹ میں توانائی تحفظ، غذائی تحفظ اور انرجی اسٹوریج پالیسیوں میں فوری اصلاحات کی سفارش کی گئی ہے۔

دیگر عالمی اداروں کی تشویش | India Growth Outlook

دریں اثنا، موڈیز نے کہا کہ بھارت کے مضبوط زرمبادلہ ذخائر کے باعث معاشی رکاوٹیں عارضی ثابت ہوسکتی ہیں۔ تاہم، ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے سبب بھارت کی شرح نمو کم ہوکر 6.3 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2026-27 مالی سال کے دوران افراط زر میں 2.4 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے جس کے بعد مجموعی مہنگائی کی شرح 6.9 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے باوجود بھارت کو پائیدار ترقی کے لیے توانائی، تجارت اور مالیاتی استحکام پر فوری توجہ دینا ہوگی تاکہ مستقبل میں بڑے اقتصادی دباؤ سے بچا جاسکے۔