حیدرآباد: گوشہ محل کے بی جے پی رکن اسمبلی راجا سنگھ نے حیدرآباد پولیس پر ان کے خلاف جھوٹے اور غیر قانونی مقدمات درج کرنے کا الزام لگایا ہے۔ بھاجپا رکن اسمبلی نے تلنگانہ کے ڈی جی پی سے فوری مداخلت کی اپیل کی۔
راجا سنگھ نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں ان کی تقریر کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور ایسے مقدمات درج کیے گئے جن کا حیدرآباد سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے ڈی جی پی سے وضاحت طلب کی کہ پولیس نے ایسا قدم کیوں اٹھایا۔
تقریر پر مقدمات اور دائرہ اختیار کا سوال | Raja Singh Appeal
میڈیا سے گفتگو میں راجا سنگھ نے بتایا کہ انہوں نے مدھیہ پردیش میں ایک ہندو سبھا میں تقریر کی تھی، مگر پولیس نے ان کے بیانات کو سیاسی طور پر غلط رنگ دیا۔ ان کا سوال تھا: “جب واقعہ ریاست سے باہر پیش آیا تو حیدرآباد پولیس کیس کیسے درج کر سکتی ہے؟”
انہوں نے کہا کہ وہ پولیس اختیارات کے غلط استعمال کے خلاف قانونی طور پر جدوجہد جاری رکھیں گے اور اپنے حقوق کا دفاع کریں گے۔
31 تھانوں میں مقدمات درج | Raja Singh Appeal
راجا سنگھ کے مطابق، حیدرآباد کے 31 پولیس اسٹیشنوں میں ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں، جن میں کنچن باغ، شاہ علی بنڈہ، نامپلی، عنبرپیٹ، بنجارہ ہلز، فلک نما اور چندرائن گٹہ شامل ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کرناٹک کے بیدر اور بسواکلیان پولیس اسٹیشنوں میں بھی شکایات درج کی گئی ہیں۔ راجا سنگھ نے ڈی جی پی سے درخواست کی کہ وہ تمام مقدمات کا جائزہ لیں اور انصاف کو یقینی بنائیں۔
