Read in English  
       
Health Staff

حیدرآباد: میڈیکل، ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کے آؤٹ سورسنگ ملازمین نے منگل کے روز اربن پرائمری ہیلتھ سنٹر حیدرآباد کے باہر احتجاج کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ گزشتہ پانچ ماہ کی بقایا تنخواہیں فوراً جاری کی جائیں۔ پولیس نے مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ یہ Health Staff احتجاج کئی گھنٹے جاری رہا۔

کارکنوں کی فریاد اور روزگار کا مطالبہ

ملازمین نے کہا کہ حکومت نے انتخابی منشور میں آؤٹ سورسنگ ایجنسیوں کو ختم کرنے اور تنخواہیں کارپوریشن کے ذریعے دینے کا وعدہ کیا تھا تاکہ روزگار میں تحفظ ملے، لیکن اب تک اس پر کوئی عمل نہیں ہوا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی ملازم کی موت ہو جائے تو ورثہ کو 10 لاکھ روپئے ایکس گریشیا اور ایک خاندان کے فرد کو ملازمت دی جائے۔ مزید یہ کہ تنخواہیں ہر ماہ 5 تاریخ تک ادا کی جائیں۔

کئی کارکن اپنی مشکلات سناتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔ ایک ملازم نے کہا کہ پانچ ماہ سے تنخواہ نہیں ملی۔ ہم نے قرض لے کر خاندان کو کھلایا، مگر اب مکان مالکان بھی کرایہ نہ دینے پر کمرہ خالی کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ مستقل ملازمین ہمیں زیادہ کام دیتے ہیں مگر اجرت نہیں دیتے۔

خاتون ٹیکنیشن کی فریاد

محبوب آباد ضلع کی گارلا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ای سی جی ٹیکنیشن نے کہا کہ میں روزانہ فیس ایپ پر حاضری درج کرتی ہوں، اس کے باوجود ہمیں تنخواہیں نہیں ملتیں۔ ہمیں چھٹی نہیں دی جاتی اور غیر متعلقہ کام پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بچوں کی اسکول فیس نہیں دے سکتے، یہاں تک کہ گھر میں کھانے کے لیے چاول بھی نہیں ہیں۔

Health Staff نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ فوری مداخلت کرتے ہوئے بقایاجات ادا کیے جائیں۔