Read in English  
       
Public Education

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے رنگا ریڈی ضلع کے اروتلا گاؤں میں جدید تلنگانہ پبلک اسکول کا افتتاح کرتے ہوئے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری اسکولوں کو کمتر نہ سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی تعلیمی ادارے مستقبل کے قومی رہنما پیدا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ خود ایک سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ریاست کے وزیراعلیٰ بنے ہیں۔ انہوں نے سابق وزیراعظم پی وی نرسمہا راو کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی سرکاری اسکول کے طالب علم رہے تھے۔

اے ریونت ریڈی نے طلبہ پر زور دیا کہ جو بچے آج سرکاری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں، وہ مستقبل میں ملک کی قیادت کرنے کا خواب دیکھیں۔ ان کے مطابق تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جو نوجوان نسل کو اعلیٰ مقام تک پہنچا سکتی ہے۔

انہوں نے اروتلا تلنگانہ پبلک اسکول کو ریاست کے تعلیمی شعبے کے لیے ایک مثالی نمونہ قرار دیا۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ یہ گاؤں پورے تلنگانہ کے لیے ایک تحریک بن چکا ہے۔

اس اسکول میں اب نرسری سے کلاس 10 تک تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق اس وقت 1,814 طلبہ یہاں زیر تعلیم ہیں جبکہ داخلوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

تعلیمی شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری | Public Education

اے ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ بھر کے سرکاری اسکولوں میں تقریباً 27 لاکھ طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت تعلیم کے شعبے پر 27,000 کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے اور مجموعی بجٹ کا 8 فیصد حصہ اسی شعبے کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ رقم معمول کا خرچ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں پر سرمایہ کاری ہے۔ چنانچہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد عوامی تعلیم کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں لانے کا فیصلہ کیا۔

اس مقصد کے لیے حکومت نے اکونوری مرلی کی سربراہی میں ایک تعلیمی کمیشن تشکیل دیا۔ بعد ازاں کمیشن نے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف سفارشات حکومت کے حوالے کیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں سرکاری اسکولوں کے بارے میں منفی تاثر پایا جاتا تھا۔ تاہم انہیں یقین ہے کہ اروتلا کا یہ ادارہ مستقبل میں پورے تلنگانہ کے لیے ایک مثالی ماڈل بن کر ابھرے گا۔

مہارت، کھیل اور مستقبل کی تیاری | Public Education

اے ریونت ریڈی نے مہارتوں کی ترقی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ریاست بھر میں ینگ انڈیا انٹیگریٹڈ اسکولس قائم کر رہی ہے تاکہ طلبہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم فراہم کی جا سکے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ینگ انڈیا اسکل یونیورسٹی کا افتتاح 9 دسمبر کو کیا جائے گا۔ مزید برآں یہ ادارہ نوجوانوں کو روزگار اور صنعتی ضروریات کے مطابق مہارتیں فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

کھیلوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بھارت کو اولمپکس میں اپنی کارکردگی مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اسی لیے حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت ینگ انڈیا اسپورٹس یونیورسٹی قائم کر رہی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں تلنگانہ کے کھلاڑی اولمپکس میں طلائی تمغہ جیت کر ریاست اور ملک کا نام روشن کریں گے۔ ان کے مطابق تعلیم، مہارت اور کھیل تینوں شعبے نوجوان نسل کی ترقی کے لیے یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔