حیدرآباد: تلنگانہ میں 13 ستمبر کو National Lok Adalatمنعقد ہوگی، جس میں قانونی ماہرین، سرکاری اور غیر سرکاری اراکین کی موجودگی میں فریقین باہمی رضامندی سے تنازعات حل کر سکیں گے۔ سرکاری اعلامیہ کے مطابق ازدواجی تنازعات، نان نفقہ، ہراسانی، گھریلو تشدد کے مقدمات، دیوانی تنازعات، قابل صلح فوجداری مقدمات اور نگوشی ایبل انسٹرومنٹس ایکٹ کی دفعہ 138 کے تحت معاملات بغیر کسی فیس یا عدالتی خرچ کے حل کیے جا سکتے ہیں۔
زیر سماعت مقدمات میں شامل فریقین درخواست دے کر اپنے معاملات لوک عدالت کو بھیجنے کی گزارش کر سکتے ہیں۔ اگر عدالت کو ابتدائی طور پر معاملہ تصفیہ کے قابل محسوس ہوا تو وہ مقدمات کو خصوصی اجلاس میں حل کے لیے بھیج دے گی۔
سرکاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ مقدمات عدالت پہنچنے سے قبل یعنی پری لٹیگیشن مرحلے میں بھی فریقین نیشنل لوک عدالت کے ذریعے تصفیہ کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ قریبی عدالت کے احاطے میں موجود لیگل سروسز انسٹی ٹیوشنز، ضلعی قانونی خدمات اتھارٹی یا ریاستی قانونی خدمات اتھارٹی سے رجوع کر سکتے ہیں۔
