Read in English  
       
SSC Supplementary Exams

حیدرآباد ۔ تلنگانہ بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن نے جون 2026 کے لیے ایس ایس سی (جماعت دہم) اور او ایس ایس سی امیدواروں کے سپلیمنٹری امتحانات کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ اس اعلان کے مطابق امتحانات 5 جون سے 12 جون تک ریاست بھر میں منعقد ہوں گے۔ مزید برآں، حکام نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ طلبہ کو اس شیڈول سے بروقت آگاہ کریں۔

پس منظر کے طور پر، ضلعی تعلیمی افسران اور اداروں کے سربراہان کو امتحانات کے انعقاد کے لیے ضروری انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ تاہم، حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام امتحانی مراکز پر نظم و ضبط اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ طلبہ کو کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔

شیڈول کے مطابق، طلبہ 5 جون کو فرسٹ لینگویج کا امتحان دیں گے جبکہ 6 جون کو سیکنڈ لینگویج کا پرچہ ہوگا۔ اسی طرح، 7 جون کو تھرڈ لینگویج انگلش کا امتحان مقرر کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ 8 جون کو ریاضی، 9 جون کو سائنس پارٹ-1 فزیکل سائنس اور 10 جون کو سائنس پارٹ-2 بایولوجیکل سائنس کے امتحانات ہوں گے۔

مکمل شیڈول اور امتحانی تفصیلات | SSC Supplementary Exams

طلبہ 11 جون کو سوشل اسٹڈیز کا امتحان دیں گے۔ اسی دوران، او ایس ایس سی امیدوار اسی دن سنسکرت اور عربی کے مین لینگویج پیپر-1 میں شریک ہوں گے، جبکہ 12 جون کو مین لینگویج پیپر-2 منعقد ہوگا۔ اس طرح دونوں زمروں کے طلبہ کے لیے واضح اور منظم شیڈول ترتیب دیا گیا ہے۔

امتحانات کا وقت زیادہ تر 9.30 صبح سے 12.30 دوپہر تک رکھا گیا ہے۔ تاہم، فزیکل سائنس اور بایولوجیکل سائنس کے پرچے 11 بجے ختم ہو جائیں گے۔ لہٰذا طلبہ کو وقت کی پابندی کے ساتھ امتحان میں شرکت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ہدایات اور احتیاطی اقدامات | SSC Supplementary Exams

بورڈ نے طلبہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہر مضمون کے پارٹ-بی آبجیکٹو سوالات مقررہ وقت میں مکمل کریں۔ مزید برآں، امیدواروں کو صرف انہی امتحانی مراکز میں شرکت کرنے کا کہا گیا ہے جو ان کے ہال ٹکٹ میں درج ہیں۔

دریں اثنا، حکام نے خبردار کیا ہے کہ غیر مجاز سوالیہ پرچے حل کرنے یا مقررہ مرکز کے علاوہ کسی اور جگہ امتحان دینے کی صورت میں نتائج منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ اگر امتحانی مدت کے دوران سرکاری تعطیلات کا اعلان بھی ہو، تب بھی امتحانات اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق ہی منعقد کیے جائیں گے۔

آخر میں، طلبہ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ہدایات پر مکمل عمل کریں تاکہ امتحانی عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔ اس طرح نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے شفاف امتحانی نظام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔