حیدرآباد: پاشامائیلارم صنعتی علاقے میں پیش آئے سگاچی فیکٹری دھماکہ معاملے میں پولیس نے سگاچی انڈسٹریز کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر امریتیش سنہا کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاری عدالت کی سخت ہدایات کے بعد عمل میں آئی، جہاں ذمہ داران کے خلاف کارروائی میں تاخیر پر سوال اٹھائے گئے تھے۔ گرفتار ملزم کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جس کے بعد انہیں 14 دن کی عدالتی تحویل میں کندی جیل بھیج دیا گیا۔
یہ خوفناک دھماکہ 30 جون کو پیش آیا تھا، جس میں 46 مزدور ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 8 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے پہلے ہی بھانور پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی، جس میں کمپنی کی لاپرواہی کو حادثے کی وجہ قرار دیا گیا تھا۔
عدالتی دباؤ اور معاوضہ | Industrial Blast
مقامی وکیل بابوراؤ کی جانب سے بھی عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں فوری قانونی کارروائی اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ پولیس نے اس معاملے میں بی این ایس کی دفعات 105، 110، 118(1) اور 118(2) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔
سماعت کے دوران عدالت نے سوال کیا کہ تاحال کسی کی گرفتاری کیوں عمل میں نہیں آئی۔ اس دباؤ کے بعد کمپنی نے 46 جاں بحق مزدوروں کے خاندانوں کو فی کس 42 لاکھ روپئے اور 8 لاپتہ مزدوروں کے خاندانوں کو فی کس 25 لاکھ روپئے جاری کیے۔
لاپرواہی کی تصدیق | Industrial Blast
بعد ازاں لیبر ڈپارٹمنٹ نے مزید عدالتی مداخلت کے بعد 8 لاپتہ مزدوروں کے خاندانوں میں فی کس 17 لاکھ روپئے تقسیم کیے۔ حکومت کی جانب سے پہلے فی خاندان 1 کروڑ روپئے دینے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم بقیہ رقم کے حوالے سے اب تک مکمل وضاحت سامنے نہیں آ سکی۔
تکنیکی کمیٹی اور اعلیٰ سطحی پینل دونوں نے اپنی رپورٹ میں کمپنی کی لاپرواہی کو حادثے کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔ واقعے کے فوری بعد وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے جائے حادثہ کا دورہ کیا تھا اور سخت کارروائی کا وعدہ کیا تھا۔ امریتیش سنہا کی گرفتاری کے بعد کمپنی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قانونی کارروائی میں مکمل تعاون کرے گی۔
