سائبرآباد پولیس کا سہسرا قتل کیس میں تہلکہ خیز انکشاف
حیدرآباد: سائبرآباد پولیس کمشنر اویناش مہانتی نے کوکٹ پلی میں پانچ دن پہلے پیش آئے Sahasra Murderکیس کی سنسنی خیز تفصیلات بیان کی ہیں۔ تفتیش میں پتہ چلا کہ مقتولہ کے پڑوس کا 14 سالہ لڑکا ہی قاتل نکلا، جس نے اسے کرکٹ بیٹ چوری کرتے دیکھ لیا تھا۔
OTT کرائم ڈراموں سے متاثر ہو کر قتل
کمشنر کے مطابق لڑکا OTT پلیٹ فارمز پر دکھائے جانے والے کرائم سینز سے بری طرح متاثر تھا اور “پروفیشنل کرمنل” کی طرح برتاؤ کر رہا تھا۔ اس نے تقریباً ایک مہینے تک بیٹ چرانے کی منصوبہ بندی کی تھی اور اس دوران ایک “اسکرپٹ” تیار کیا تھا کہ اگر پکڑا گیا تو کیسے بھاگنا ہے اور ثبوت کیسے مٹانے ہیں۔
18 اگست کو وہ سہسرا کے گھر بیٹ چرانے گھسا۔ سہسرا نے اسے دیکھ کر شور مچایا تو اس نے پہلے سے لایا ہوا چاقو نکالا اور متعدد وار کرکے اسے قتل کردیا۔ قتل کے بعد اس نے ہتھیار دھویا، خون آلود کپڑے واشنگ مشین میں ڈال دیے اور محلے میں عام بچوں کی طرح گھومتا رہا۔
تفتیش اور گرفتاری
پہلے تین دن پولیس کے ہاتھ کوئی بڑا سراغ نہیں لگا۔ بریک تھرو تب آیا جب ایک بچے نے اطلاع دی کہ واقعہ کے دن ملزم کو سہسرا کے گھر کے قریب دیکھا تھا۔ پوچھ گچھ میں ملزم نے پہلے گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن آخر کار جرم قبول کرلیا۔
پولیس کے مطابق لڑکے کے گھر پر مالی دباؤ تھا اور وہ اپنے والدین سے نیا بیٹ مانگنے سے ڈرتا تھا۔ اس نے قتل کے اگلے دن اپنی ماں سے کہا: *”آپ ہی مجھے پولیس کے حوالے کر دو گے۔”*
نابالغ کو آبزرویشن ہوم بھیج دیا گیا
لڑکے کو جووینائل جسٹس بورڈ کے سامنے پیش کیا گیا اور بعد میں اسے نابالغوں کے گھر منتقل کردیا گیا۔ پولیس نے اس بات پر زور دیا کہ OTT کرائم کانٹینٹ بچوں پر خطرناک اثر ڈال رہا ہے اور والدین کو زیادہ بیدار رہنے کی ضرورت ہے۔
