Read in English  
       
GST Slab

حیدرآباد: مرکزی حکومت کی جانب سے جی ایس ٹی سلیب میں کی گئی تبدیلیوں کے باعث تلنگانہ کی ٹیکس آمدنی میں نمایاں کمی درج کی گئی ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق صرف نومبر کے مہینے میں ریاست کو تقریباً 1,000 کروڑ روپئے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جس سے ریاستی خزانے پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

حکام نے بتایا کہ جی ایس ٹی سلیب میں رد و بدل کے بعد ریاست کو ملنے والا ٹیکس حصہ کم ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں ماہانہ وصولیوں میں کمزوری دیکھی گئی اور ریاستی مالی گنجائش محدود ہوتی چلی گئی۔ ریونیو امور سے وابستہ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے بجٹ منصوبہ بندی کو بھی متاثر کیا ہے۔

ماضی میں جی ایس ٹی نظام کے تحت چار مختلف ٹیکس سلیب موجود تھے۔ بعد ازاں مرکزی سطح پر اس ڈھانچے کو محدود کرتے ہوئے صرف تین سلیب برقرار رکھے گئے۔ موجودہ نظام میں 5 فیصد اور 18 فیصد کے سلیب سے زیادہ تر وصولیاں ہو رہی ہیں، جبکہ 12 فیصد اور 28 فیصد کے سلیب ختم کر دیے گئے ہیں۔ 40 فیصد کی شرح صرف چند مخصوص لگژری اشیا تک محدود رکھی گئی ہے۔

جی ایس ٹی سلیب میں رد و بدل سے ریاستی آمدنی متاثر | GST Slab

اس کے علاوہ انشورنس، طبی خدمات اور دیگر شعبوں پر جی ایس ٹی کی شرح میں کمی کی گئی، جس سے صارفین کو وقتی ریلیف ملا۔ مرکز کا مؤقف ہے کہ ان فیصلوں سے کروڑوں افراد کو فائدہ پہنچا ہے۔ تاہم تلنگانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا منفی اثر براہِ راست ریاستی آمدنی پر پڑا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2023 کے مقابلے میں نومبر 2024 میں سیلز ٹیکس آمدنی میں 1,490 کروڑ روپئے کا اضافہ ہوا تھا۔ اس کے برعکس نومبر 2025 میں پچھلے سال کے مقابلے میں اضافہ محض 431 کروڑ روپئے تک محدود رہا۔ اس طرح سال بہ سال بنیاد پر تقریباً 1,000 کروڑ روپئے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

ریاستی مالیات پر دباؤ اور خدشات | GST Slab

جی ایس ٹی کونسل کے سابقہ اجلاسوں میں ریاستوں نے سلیب میں کمی کی سخت مخالفت کی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ متبادل آمدنی کے ذرائع فراہم کیے بغیر شرحوں میں کمی سے فلاحی اسکیمیں اور ترقیاتی منصوبے متاثر ہوں گے۔ ریاستوں نے یہ بھی خبردار کیا تھا کہ اس سے مالی دباؤ شدید ہو جائے گا۔

اگرچہ مرکز نے اس وقت اثرات کا جائزہ لینے کی یقین دہانی کرائی تھی، مگر تلنگانہ کے حکام اس پر عدم اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں۔ ریاست نے پہلے ہی اندازہ لگایا تھا کہ جی ایس ٹی سلیب میں تبدیلیوں سے سالانہ نقصان 7,000 کروڑ روپئے سے تجاوز کر سکتا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ نقصان اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایک ہی مہینے میں 1,000 کروڑ روپئے کی کمی برقرار رہی تو آئندہ دنوں میں ریاستی مالیات پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں تلنگانہ سمیت کئی ریاستیں اب مرکزی حکومت سے معاوضے یا متبادل مالی انتظامات کے بارے میں وضاحت کی منتظر ہیں۔