Read in English  
       
BC Census Issue

حیدرآباد ۔ تلنگانہ میں بی سی مردم شماری سے متعلق ایک نیا تنازع سامنے آیا ہے جب ریاستی بی سی کمیشن کے چیئرمین جی نرنجن نے مردم شماری کے پہلے مرحلے میں بی سی کالم کی عدم موجودگی پر اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے اس سلسلے میں جمعرات کو مردم شماری ڈائریکٹر بھارتی ہولیکیری کو ایک خط تحریر کیا۔ مزید برآں، اس معاملے نے پسماندہ طبقات میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

پس منظر کے طور پر، جی نرنجن نے کہا کہ مردم شماری کے پہلے مرحلے میں بی سی اعداد و شمار شامل نہ کرنا تلنگانہ کے پسماندہ طبقات کے لیے مایوس کن ہے۔ تاہم، ریاست میں مردم شماری کا پہلا مرحلہ 26 اپریل 2026 سے شروع ہو چکا ہے اور اس میں بنیادی معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے اپنے خط میں 30 اپریل 2025 کو مرکزی کابینہ کمیٹی برائے سیاسی امور کے فیصلے کا حوالہ دیا جس میں 2027 کی مردم شماری کے دوران بی سی ذاتوں کے اعداد و شمار جمع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ مزید یہ کہ مرکز نے بعد میں وضاحت کی تھی کہ بی سی تفصیلات دوسرے مرحلے میں جمع کی جائیں گی۔

وضاحت کا مطالبہ اور خدشات | BC Census Issue

جی نرنجن نے مردم شماری ڈائریکٹوریٹ کو تلنگانہ کی بی سی ذاتوں کی فہرست بھی ارسال کی ہے تاکہ اس عمل کو آسان بنایا جا سکے۔ مزید برآں، انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ دوسرے مرحلے میں ذاتوں کی تفصیلات درج کرنے کا طریقہ کار کیا ہوگا۔

انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ جلد از جلد واضح ہدایات جاری کریں تاکہ کسی بھی قسم کی ابہام دور ہو سکے۔ لہٰذا، اس معاملے میں شفافیت اور وضاحت کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

حکومتی ردعمل کا انتظار | BC Census Issue

دریں اثنا، اب تک مردم شماری حکام کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، بی سی کمیشن نے اس مسئلے پر فوری وضاحت کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ آئندہ مراحل میں درست طریقے سے اعداد و شمار جمع کیے جا سکیں۔

مزید یہ کہ اس تنازع نے ریاست میں ذات پر مبنی ڈیٹا کے جمع کرنے کے عمل کو ایک اہم موضوع بنا دیا ہے۔ نتیجتاً، آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔

آخر میں، یہ معاملہ نہ صرف مردم شماری کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا رہا ہے بلکہ پسماندہ طبقات کے حقوق اور نمائندگی سے متعلق بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ لہٰذا، حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے بروقت وضاحت انتہائی ضروری سمجھی جا رہی ہے۔