حیدرآباد: تلنگانہ کے ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ ریاست آئندہ پانچ برسوں میں ایک کروڑ خواتین کو کروڑ پتی Telangana Women Empowerment بنائے گی۔ وہ یوسف گوڑہ کے کوٹلا وجیا بھاسکر ریڈی اسٹیڈیم میں منعقدہ اندرا مہیلا شکتی پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔
اس موقع پر بھٹی وکرمارکا نے جوبلی ہلز اسمبلی حلقہ کی 8,130 خواتین میں 41.51 کروڑ روپئے کے بلاسود قرضے تقسیم کیے۔ یہ فنڈز شہری ادارہ (GHMC) کی خود امدادی گروپ اسکیم کے تحت مہیا کیے گئے۔
خود امدادی گروپ خواتین کی ریڑھ کی ہڈی
ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ صرف حیدرآباد میں ہی 63 لاکھ خواتین خود امدادی گروپس سے وابستہ ہیں۔ ان میں 30 جی ایچ ایم سی سرکلز میں قائم 50,764 گروپس سے تعلق رکھنے والی 5,09,957 خواتین شامل ہیں۔ حکومت کا منصوبہ ہے کہ مزید خواتین کو ان گروپس میں شامل کیا جائے تاکہ وہ سود خوروں پر انحصار سے آزاد ہوسکیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ کانگریس حکومت نے بلاسود قرض اسکیم کو دوبارہ فعال کیا ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے معطل تھی۔ صرف پہلے ہی سال میں 20,000 کروڑ روپئے کے ہدف کو عبور کرتے ہوئے 21,632 کروڑ روپئے تقسیم کیے گئے۔
کاروباری مواقع اور ٹرانسپورٹ میں تعاون
خواتین کو کاروباری مواقع فراہم کرنے کے لیے ریاستی حکومت نے شلپارامم میں 100 کمرشل دکانیں الاٹ کی ہیں۔ اسی طرح، خود امدادی گروپس کے ذریعے 150 بسیں خریدی گئیں جنہیں بعد میں آر ٹی سی کو لیز پر دیا گیا۔ حکومت نے مزید 450 بسوں کو شامل کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ خواتین کے لیے مفت بس سفر اسکیم کے ذریعے اندازاً 7,000 کروڑ روپئے کی بچت ہوئی ہے۔ اس ضمن میں حکومت نے آر ٹی سی کو 7,422 کروڑ روپئے کی واپسی کی۔
فلاحی اسکیموں کا دائرہ
بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ ریاست کی 96 لاکھ خاندان اب ہر ماہ فی کس 6 کلو عمدہ چاول حاصل کر رہی ہیں، جس کی اوپن مارکیٹ میں قیمت 50 روپئے فی کلو ہے۔ اس اسکیم نے خوراک کے تحفظ کو یقینی بنایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے راشن کارڈ کے دیرینہ مسائل کو حل کرتے ہوئے نئے کارڈ جاری کیے اور پرانے کارڈز کی تجدید کی۔ اسی طرح غریب اور متوسط طبقے کے خاندان اب ہر ماہ 200 یونٹ بجلی مفت حاصل کر رہے ہیں جس کا خرچ حکومت براہِ راست ادا کرتی ہے۔
راجیو آروگیہ سری اسکیم کے تحت خاندانوں کو کارپوریٹ اسپتالوں میں 10 لاکھ روپئے تک مفت علاج کی سہولت دی جا رہی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے مطابق ان اقدامات سے خواتین نہ صرف مالی طور پر مستحکم ہوں گی بلکہ سماجی طور پر بھی بااختیار Telangana Women Empowerment بنیں گی۔



























































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































