Read in English  
       
LPG Price Burden

حیدرآباد ۔ تلنگانہ حکومت کے مشیر محمد علی شبیر نے کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور حج عازمین پر اضافی مالی بوجھ کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے ان فیصلوں کو عوام مخالف اور غیر حساس قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت پر تنقید کی۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات عام شہریوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہے ہیں۔

پس منظر میں محمد علی شبیر نے کہا کہ 19 کلو گرام کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں تقریباً 1000 روپے اضافہ کیا گیا ہے، جس سے حیدرآباد میں قیمت 3300 روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے اس اضافے کو چھوٹے کاروبار، ہوٹلوں اور سڑک کنارے کھانے پینے کے مراکز کے لیے شدید دھچکا قرار دیا۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اس کے نتیجے میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا جس کا براہ راست اثر غریب اور متوسط طبقے پر پڑے گا۔

کاروباری اثرات اور مہنگائی میں اضافہ | LPG Price Burden

محمد علی شبیر نے کہا کہ ایندھن کی بڑھتی قیمتیں معاشی دباؤ کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ ان کے مطابق، اس فیصلے کے نتیجے میں نہ صرف کاروبار متاثر ہوں گے بلکہ مہنگائی میں بھی تیزی آئے گی۔ مزید یہ کہ انہوں نے مرکزی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ انتخابات کے دوران ریلیف دیتی ہے جبکہ بعد میں عوام پر بوجھ ڈال دیتی ہے۔

’’انہوں نے کہا کہ عالمی حالات کو جواز بنا کر عوام کو متاثر کرنا درست نہیں کیونکہ حکومت کو پہلے سے تیاری کرنی چاہیے تھی۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ ایران تنازع جیسے مسائل پہلے سے موجود تھے، اس کے باوجود حکومت نے کوئی مؤثر حکمت عملی اختیار نہیں کی۔ نتیجتاً، عوام کو براہ راست اس کا بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘

انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ایل پی جی درآمدات پر انحصار کے باعث حکومت کو بہتر سبسڈی اور قیمتوں کے نظام کی ضرورت تھی۔ تاہم، ان کے مطابق موجودہ پالیسیوں کی وجہ سے مصنوعی قلت اور بازار میں استحصال کے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔

حج اخراجات اور عوامی ردعمل | LPG Price Burden

دوسری جانب محمد علی شبیر نے حج عازمین پر 10000 روپے اضافی بوجھ عائد کرنے کے فیصلے کو بھی سختی سے تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حج ایک اہم مذہبی فریضہ ہے جس کے لیے لوگ برسوں تک بچت کرتے ہیں۔ اس لیے آخری وقت میں اضافی اخراجات عائد کرنا انتہائی غیر منصفانہ ہے۔

’’محمد علی شبیر نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے ایوی ایشن ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا پہلے سے اندازہ کیوں نہیں لگایا۔ مزید یہ کہ انہوں نے کہا کہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے اس صورتحال سے بچا جا سکتا تھا، لیکن اس کے بجائے حکومت نے یہ بوجھ براہ راست عازمین پر ڈال دیا۔‘‘

انہوں نے خبردار کیا کہ سپلائی میں رکاوٹیں اور بلیک مارکیٹ میں ایل پی جی کی فروخت بھی ایک سنگین مسئلہ ہے، جس سے عام صارفین کو زیادہ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معیار اور دستیابی بھی متاثر ہوتی ہے۔

آخر میں محمد علی شبیر نے مطالبہ کیا کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے اور حج اخراجات میں کیے گئے اضافے کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو سیاسی مفادات کے بجائے عوامی فلاح کو ترجیح دینی چاہیے۔ نتیجتاً، یہ معاملہ عوامی سطح پر شدید ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔