حیدرآباد: بی سی ویلفیئر کے وزیر پونم پربھاکر نے کہا کہ ریاست بھر میں ینگ انڈیا انٹیگریٹڈ اسکولز قائم کیے جائیں گے اور طلبہ کے لیے نئے تخلیقی طریقۂ تعلیم کو ترجیح دی جائے گی۔ وہ گلوبل سمٹ میں ویژن 2047 کے تحت ویلفیئر ڈپارٹمنٹس سے متعلق سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ پینل میں وزراء اڈلوری لکشمن کمار اور محمد اظہر الدین بھی شامل تھے۔ پربھاکر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی قیادت میں حکومت ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتی برادریوں کے لیے تعلیم اور مہارت پر مبنی جامع حکمت عملی ترتیب دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک آبادی کے 80 فیصد سے زائد حصے کو مضبوط سہارا نہ دیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت تعلیمی معیار، مہارتی تربیت، روزگار کے مواقع اور ریزرویشن سپورٹ کو وسعت دے گی۔ مستقبل کی اسکیموں میں اعلیٰ تعلیم اور بیرونی تعلیم کے مواقع کو بھی اہمیت دی جائے گی۔ ماہرین کی تجاویز کو اپنانے کا ارادہ بھی ظاہر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شعبۂ تعلیم میں اصلاحات شروع ہو چکی ہیں جن میں طلبہ کے لیے غذائی معیار بہتر بنانے کے لیے ڈائٹ چارجز میں اضافہ شامل ہے۔
معیاری تعلیم کا جامع فریم ورک | Education Reform
پربھاکر نے کہا کہ معیاری تعلیم ہی وہ سب سے مؤثر سہارا ہے جو حکومت کم آمدنی والے خاندانوں کو فراہم کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جو برادریوں کو بہتر سماجی اور معاشی سطح تک پہنچاتا ہے۔ انہوں نے حالیہ ذات پر مبنی سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیم رکھنے والے خاندانوں نے زیادہ مضبوط ترقی دکھائی ہے۔ اسی لیے انہوں نے بتایا کہ حکومت نے تعلیم کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ نسلوں کی تشکیل کے لیے لازمی ہے کہ ریاست بھر میں معیاری تعلیم کے معیار کو بلند کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر تعلیمی نظام ہی وہ بنیاد ہے جو طویل مدتی ترقی کو ممکن بناتا ہے اور معاشرے کے ہر طبقے تک مواقع پہنچاتا ہے۔
ریاستی ترقی کا محور بنتی نئی تعلیمی حکمت عملی | Education Reform
پربھاکر نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست ترقی کی جس سمت میں بڑھ رہی ہے، وہاں تعلیم مرکزی کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بہتر تعلیمی ڈھانچے کے بغیر مہارت، روزگار اور معاشی فروغ ممکن نہیں۔ پونم پربھاکر نے بتایا کہ حکومت مختلف شعبوں میں ماہرین کی تجاویز کو شامل کر کے ایک مربوط حکمت عملی تیار کر رہی ہے جس سے نوجوان نسل کے لیے مضبوط بنیاد قائم ہوگی۔
انہوں نے زور دیا کہ تعلیمی شعبے کی بہتری ریاست کی وسیع ترین آبادی کو براہ راست فائدہ پہنچائے گی۔ ان کے مطابق نئی پالیسیوں میں شفافیت اور کارکردگی کو بنیادی حیثیت حاصل ہوگی تاکہ ہر طالب علم بہتر مواقع حاصل کر سکے۔
