Read in English  
       
Medical Colleges

حیدرآباد: تلنگانہ کے میڈیکل امیدواروں کے لیے بڑی خوشخبری، نیشنل میڈیکل کمیشن (NMC) نے ریاست کے تمام 34 سرکاری [en]Medical Colleges[/en] کو موجودہ تعلیمی سال کے لیے منظوری دے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی تمام 4,090 ایم بی بی ایس نشستیں برقرار رہیں گی، اور کسی بھی کالج پر کوئی جرمانہ عائد نہیں کیا گیا۔

این ایم سی کی یہ منظوری اس وقت آئی ہے جب ریاستی حکومت نے فیکلٹی اور انفراسٹرکچر سے متعلق دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے۔ ان میں سب سے نمایاں 44 سینئر پروفیسروں کو ایڈیشنل ڈائریکٹرز آف میڈیکل ایجوکیشن کے عہدے پر ترقی دینا شامل ہے، جن میں سے کئی افراد نے سرکاری کالجوں اور تدریسی اسپتالوں میں پرنسپل یا سپرنٹنڈنٹ کے طور پر چارج سنبھال لیا ہے۔ مزید 278 اسوسی ایٹ پروفیسروں کو پروفیسرز کے طور پر ترقی دی گئی، جس سے شعبہ جاتی قیادت میں موجود خلا پُر ہوا۔

اسی اسکیم کے تحت 231 اسسٹنٹ پروفیسروں کی ترقی کا عمل بھی جاری ہے، کیونکہ سینئر عہدوں پر براہ راست تقرری کی اجازت نہیں۔ انٹری لیول پر میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز ریکروٹمنٹ بورڈ نے حال ہی میں 607 اسسٹنٹ پروفیسروں کی آسامیوں کا اعلامیہ جاری کیا ہے، جب کہ مزید 714 آسامیوں کو محکمہ فینانس کی منظوری حاصل ہو چکی ہے۔

این ایم سی کو پیش کی گئی حالیہ رپورٹ میں ان تمام پیش رفت کی تفصیلات فراہم کی گئی تھیں، جنہیں کمیشن نے منظوری کے لائق سمجھا۔

تدریسی اسپتالوں میں بیڈ کی کمی کے حوالے سے این ایم سی کی ایک اور بڑی تشویش کو دور کرتے ہوئے ریاست نے 21 اسپتالوں میں 6,000 سے زائد بیڈز کا اضافہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ساتھ ہی انفراسٹرکچر کی نگرانی اور منصوبہ بندی کو یقینی بنانے کے لیے ’میڈیکل کالج مانیٹرنگ کمیٹیاں‘ (MCMC) تشکیل دینے کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق، تلنگانہ کے 34 میں سے 25 سرکاری میڈیکل کالجز کا قیام 2022 سے 2024 کے درمیان عمل میں آیا ہے، اور ان کالجوں و منسلک اسپتالوں کی تعمیرات اس وقت تیزی سے جاری ہیں۔ این ایم سی نے منظوری دیتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ ریاست آئندہ چار ماہ میں تمام سہولیات کو مکمل طور پر فعال بنائے۔

داخلہ کے حوالے سے کالوجی ہیلتھ یونیورسٹی نے ایم بی بی ایس کونسلنگ کے لیے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ ریاستی سطح کے NEET رینکس جلد جاری کیے جائیں گے، جس کے بعد قومی کونسلنگ شیڈول کے مطابق سیٹ الاٹمنٹ کا عمل مکمل ہوگا۔

این ایم سی کی منظوری گزشتہ برس کے برعکس ایک مثبت تبدیلی ہے، جب کئی اداروں کو فیکلٹی اور سہولیات کی کمی پر شوکاز نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ 18 جون کو دہلی میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیر صحت اور وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں تلنگانہ حکام نے بڑے پیمانے پر بھرتیوں اور طبی آلات کی اپ گریڈیشن کے ذریعے خامیوں کو دور کرنے کی باضابطہ یقین دہانی کرائی تھی۔

عالمی بینک کے جزوی تعاون سے جاری انفراسٹرکچر فنانسنگ کے پس منظر میں این ایم سی کی حتمی منظوری ایم بی بی ایس داخلوں کے منتظر ہزاروں طلبہ کے لیے بڑا ریلیف ثابت ہوئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *