Voter Verification
حیدرآباد ۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر این رام چندر راو نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی شکستوں کو اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے عمل سے جوڑنا سیاسی محرکات پر مبنی رویہ ہے۔ ان کے مطابق ایسے بیانات نہ صرف انتخابی اداروں پر غیر ضروری سوالات اٹھاتے ہیں بلکہ جمہوری نظام کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ہفتہ کے روز کریم نگر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے این رام چندر راو نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کے حالیہ ریمارکس کا جواب دیا۔ انہوں نے جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک آئینی اور قانونی طریقہ کار ہے جسے الیکشن کمیشن آف انڈیا انجام دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کا عمل عدالتی حمایت بھی رکھتا ہے اور اس کا مقصد انتخابی فہرستوں کو درست اور تازہ رکھنا ہے۔ لہٰذا اس پر بلاوجہ شکوک و شبہات پیدا کرنا مناسب نہیں۔
انتخابی نتائج کے بعد اعتراضات پر تنقید | Voter Verification
این رام چندر راو نے الزام عائد کیا کہ کانگریس صرف اس وقت انتخابی نظام پر سوالات اٹھاتی ہے جب اسے شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم جب وہ انتخابات میں کامیاب ہوتی ہے تو انہی اداروں اور طریقہ کار پر کوئی اعتراض سامنے نہیں آتا۔
ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ جمہوری اداروں اور آئینی عمل کی حمایت کریں۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج پسند نہ آنے کی صورت میں اداروں کی ساکھ پر سوالات کھڑے کرنا درست روایت نہیں ہے۔
بی جے پی رہنما نے زور دے کر کہا کہ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنا تمام سیاسی جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ چنانچہ ہر جماعت کو ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔
ووٹر فہرستوں کی درستگی پر زور | Voter Verification
این رام چندر راو کے مطابق ملک بھر میں اب تک تقریباً 57 کروڑ ووٹروں کی تصدیق کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مزید 37 کروڑ ووٹرز اس وقت اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے تحت تصدیقی مرحلے سے گزر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے بوتھ لیول ایجنٹس کے ذریعے اس عمل میں حصہ لیتی ہیں۔ اسی لیے انہوں نے سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ الیکشن حکام کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ ووٹر فہرستیں درست اور تازہ ترین رہ سکیں۔
دوسری جانب این رام چندر راو نے انتخابی فہرستوں میں غیر قانونی غیر ملکی شہریوں کے نام شامل ہونے کے خدشات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق ووٹر فہرستوں کی شفافیت اور درستگی جمہوری نظام کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن احتیاط اختیار کی جانی چاہیے۔ لہٰذا تمام متعلقہ اداروں اور سیاسی جماعتوں کو مل کر اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ووٹر فہرستیں مکمل طور پر درست، شفاف اور قابلِ اعتماد ہوں۔
