حیدرآباد: تلنگانہ جاگروتی کی صدر کلواکنٹلہ کویتا نے الزام عائد کیا ہے کہ کانگریس حکومت کے دور میں اقلیتوں کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نمائندگی، فلاحی اخراجات اور دیرینہ سماجی مسائل پر حکومت نے سنجیدگی نہیں دکھائی۔
ناگرکرنول میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں اقلیتوں کو کم از کم علامتی پہچان حاصل تھی۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ انہیں حکمرانی اور سیاست میں حاشیے پر دھکیل دیا گیا۔ اس تناظر میں انہوں نے پروفیسر جے شنکر کے ایک پرانے بیان کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی کے زمانے میں نمستے اور سلام دونوں کہنے کی روایت کا ذکر کیا تھا۔
کویتا کے مطابق وہ ہمہ گیر ثقافت بتدریج کمزور ہوتی چلی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمتوں اور سیاسی اداروں میں اقلیتوں کی نمائندگی مسلسل گھٹتی رہی، جس کے نتیجے میں انہیں صرف وقف بورڈ اور حج کمیٹی تک محدود کر دیا گیا۔
اقلیتوں کی نمائندگی پر سوالات | Minority Rights
کویتا نے کہا کہ مختلف حکومتوں کے ادوار میں یہ روش برقرار رہی۔ ان کے مطابق تلنگانہ کی تشکیل کے بعد بی آر ایس حکومت نے اگرچہ ایک مسلم رہنما کو نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ دیا، لیکن پسماندگی، بااختیاری اور سیاسی شمولیت کے بنیادی مسائل حل نہ ہو سکے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ اقلیتوں کے لیے 12 فیصد ریزرویشن کا دیرینہ مطالبہ آج تک التوا کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے کے بعد اقلیتوں کو بامعنی نمائندگی دینے میں ناکام رہتی ہیں۔
فلاحی وعدے اور زمینی حقیقت | Minority Rights
کویتا نے الزام لگایا کہ کانگریس اور بی آر ایس دونوں حکومتوں نے اقلیتی فلاح و بہبود کے لیے مختص فنڈز کا نصف سے بھی کم خرچ کیا۔ ان کے مطابق تلنگانہ جاگروتی تنظیمی سطح پر تمام برادریوں کے ساتھ کام کرتی ہے اور اسی مقصد کے تحت مسلم مائنارٹی، عیسائی اور سکھ ونگز قائم کیے گئے ہیں۔
خواتین ووٹروں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت اپنے انتخابی وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی۔ ان کے مطابق نہ تو 2,500 روپے ماہانہ امداد کی اسکیم نافذ ہوئی اور نہ ہی ایک تولہ سونا دینے کا وعدہ پورا کیا گیا۔
تعلیم کے شعبے پر بات کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ کی رقم جاری نہ ہونے سے غریب اور پسماندہ خاندانوں کے طلبہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تلنگانہ جاگروتی اقلیتوں، خواتین اور نوجوانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔
