حیدرآباد: حیدرآباد اور سکندرآباد کے آٹو ڈرائیوروں نے خواتین کے لیے مفت بس سفر کی پالیسی کے خلاف 20 جنوری کو ایک روزہ بند اور اندرا پارک میں احتجاجی دھرنے کی کال دی ہے۔ آٹو ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ان کی روزی روٹی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور معاشی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ مشترکہ اعلان مہاتما گاندھی تلنگانہ آٹو ڈرائیور جے اے سی کے کنوینر محمد امان اللہ خان اور آئی ایل ڈبلیو ایف آٹو بندھو ایسوسی ایشن کے صدر عنایت علی باقری کی جانب سے کیا گیا۔ قائدین نے کہا کہ آٹو رکشہ برادری کو طویل عرصے سے نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
مفت بس سفر سے آمدنی متاثر | Auto Bandh
آٹو ڈرائیور رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ خواتین کے لیے مفت بس سہولت کے نفاذ کے بعد آٹو ڈرائیوروں کی آمدنی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق روزانہ کے سفر میں خواتین مسافروں کی تعداد کم ہونے سے ہزاروں خاندان معاشی بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔
احتجاج کے دوران ’’شراب ہٹاؤ – تلنگانہ بچاؤ‘‘ کا نعرہ بھی بلند کیا جائے گا، جبکہ ریاست میں مکمل شراب بندی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ قائدین نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے پالیسی واپس نہ لی تو آٹو ڈرائیوروں کو انصاف ملنا مشکل رہے گا۔
اندرا پارک میں احتجاجی دھرنا | Auto Bandh
احتجاجی دھرنا ہفتہ کے روز صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک اندرا پارک میں منعقد ہوگا۔ تنظیموں نے جڑواں شہروں کے تمام آٹو ڈرائیوروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بڑی تعداد میں شریک ہو کر بند کو کامیاب بنائیں اور اپنی آواز حکومت تک پہنچائیں۔
آخر میں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج کسی کے خلاف نہیں بلکہ اپنی بقا اور روزگار کے تحفظ کے لیے ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
