Read in English  
       
Cyber Crime

حیدرآباد: سائبر کرائم یونٹ نے ایک بڑے انویسٹمنٹ فراڈ کیس میں چھ افراد کو گرفتار کرلیا جنہوں نے ایک خاتون کو جعلی ٹریڈنگ لنکس کے ذریعے 1.05 کروڑ روپے سے محروم کردیا۔

Cyber Crimeپولیس کے مطابق، ملزمین کا تعلق ایک چینی شہری چن چن سے ہے، جو بیرون ملک رقم وصول کرتا تھا۔ گرفتار شدہ افراد میں ادل پوری ہرش وردھن، کونڈورو وینو، مائلارم پردیپ، پچی پالا ونود یادو، پرسن وینا وامشی اور منگلی لکشمن شامل ہیں۔

کیس کی تفصیلات

* متاثرہ خاتون (34 سالہ) تارناکہ کی رہائشی ہے، جسے جنوری سے جولائی 2025 کے دوران نشانہ بنایا گیا۔

* ملزمین نے انسٹا گرام اور ٹیلیگرام پر این ایس ای اور کوائن ایس ایس ڈی سی ایکس کے جعلی افسر بن کر رابطہ کیا۔

* پہلے چھوٹے ریوارڈز دے کر اعتماد حاصل کیا، پھر کروڑوں روپے انویسٹمنٹ، ٹیکس کلیئرنس اور اپروول کے نام پر وصول کیے۔

* خاتون کے ایپ اکاؤنٹ میں 6.05 کروڑ روپے دکھائے گئے، لیکن اصل میں کوئی رقم واپس نہیں ملی۔

طریقہ واردات

* لکشمن نے آئی ڈی ایف سی بینک اکاؤنٹ کھولا اور اے ٹی ایم کارڈ ونود یادو کو کمیشن پر دیا۔

* باقی گروپ نے اس کارڈ کا استعمال کر کے اے ٹی ایمز اور پٹرول پمپس پر کیش نکالا اور مختلف mule accounts میں جمع کیا۔

* ہرش وردھن نے USDT (کرپٹو کرنسی) خرید کر چینی شہری چن چن کو ٹرانسفر کیا، جو کمیشن واپس بھیجتا تھا۔

* پولیس نے انکشاف کیا کہ گروپ نے 50 سے زائد بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کروڑوں روپے چین منتقل کیے۔

برآمدگی

پولیس نے 15 ڈیبٹ کارڈز، 3 پاس بکس، 1 چیک بُک، 8 موبائل فون، فنگر پرنٹ مشین اور ایک اسکینر ضبط کیا۔

یہ آپریشن انسپکٹر ایم سیتا رامولو کی قیادت میں عمل میں آیا، جس میں ایس آئی اے سری کانت اور اہلکار شامل تھے۔ کارروائی کی نگرانی اے سی پیز آر جی شیوا ماروتھی اور جئے پال ریڈی نے کی۔

عوام کے لیے انتباہ

پولیس نے خبردار کیا ہے کہ واٹس ایپ، ٹیلیگرام اور انسٹا گرام پر پھیلنے والے جعلی انویسٹمنٹ اسکیمز سے ہوشیار رہیں۔ یہ فراڈرز جعلی ویب سائٹس، پروفیشنل انداز اور جھوٹے اسکرین شاٹس سے متاثرین کو دھوکہ دیتے ہیں۔

❗️اگر آپ سائبر فراڈ کے شکار ہوں تو فوراً 1930 پر کال کریں یا cybercrime.gov.in پر شکایت درج کریں۔