حیدرآباد: ورنگل میں ایک نوجوان کا خود ساختہ اغوا پولیس کے لیے مختصر مگر ڈرامائی کیس بن گیا جب تحقیقات میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ اس نے آن لائن سٹے کے قرضوں سے بچنے کے لیے Fake Kidnapping رچائی تھی۔
پولیس کے مطابق معاملہ عادل سونی نامی نوجوان سے متعلق ہے جو کوٹہ واڑہ علاقے کا رہائشی ہے۔ اس نے آن لائن بیٹنگ پلیٹ فارمز پر تقریباً 8,00,000 روپئے گنوا دیے تھے اور قرض خواہوں کے دباؤ میں تھا۔ اس دباؤ سے نکلنے کے لیے اس نے اپنے ہی اغوا کا ڈرامہ رچا کر خاندان سے تاوان وصول کرنے کی کوشش کی۔
والد کو تاوان کا فون
پولیس نے بتایا کہ عادل سونی نے اپنے والد اشوک سونی کو فون کیا اور کہا کہ اسے اغوا کر لیا گیا ہے۔ اس نے والد کو بتایا کہ اغوا کار رہائی کے بدلے 8,00,000 روپئے مانگ رہے ہیں۔ خوفزدہ والد نے فوراً مٹیواڑہ پولیس سے رجوع کیا جس نے اغوا کا مقدمہ درج کر کے موبائل سگنل کی مدد سے تفتیش شروع کی۔
تین گھنٹے میں اصلیت بے نقاب
پولیس نے لوکیشن ٹریکنگ کے ذریعے عادل کو محض تین گھنٹوں میں ڈھونڈ نکالا۔ پوچھ گچھ پر اس نے اعتراف کیا کہ اس نے قرضوں کی ادائیگی کے لیے اغوا کا ڈرامہ خود ہی رچایا تھا۔ ورنگل پولیس نے بتایا کہ عام ٹریکنگ طریقوں کی مدد سے اس Fake Kidnapping کو جلد از جلد حل کر دیا گیا۔
یہ کیس ریاست میں آن لائن سٹے کے بڑھتے رجحان اور نوجوانوں پر اس کے منفی اثرات کو اجاگر کرتا ہے۔ پولیس نے واضح کیا کہ اس قسم کے خود ساختہ جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
