Read in English  
       
Ghosh Commission Report

حیدرآباد ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے گھوش کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد سے حکومت کو روک دیا ہے اور اس طرح بی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ اور سابق وزیر ٹی ہریش راؤ کو بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے کہا کہ کمیشن نے اپنی تحقیقات کے دوران طے شدہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا۔ مزید برآں اس بنیاد پر حکام کو ہدایت دی گئی کہ وہ رپورٹ کی بنیاد پر کوئی کارروائی نہ کریں۔

پس منظر کے طور پر یہ معاملہ ریاستی سیاست اور انتظامی نظام میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم اس فیصلے نے کمیشن کی کارروائی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اسی دوران عدالت نے قانونی اصولوں کی پابندی کو ضروری قرار دیا ہے۔

عدالتی بینچ، جس میں چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین شامل تھے، نے کہا کہ کمیشن کی کارروائی میں طریقہ کار کی خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ مزید یہ کہ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے حالات میں رپورٹ پر کارروائی مناسب نہیں۔ علاوہ ازیں اس فیصلے سے متعلقہ فریقین کو فوری ریلیف حاصل ہوا۔

طریقہ کار کی خلاف ورزی اور عدالتی موقف | Ghosh Commission Report

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ کمیشن کی تشکیل قانونی طور پر درست ہے، تاہم اس کی کارروائی میں خامیاں پائی گئیں۔ لہٰذا حکومت کی جانب سے جاری کردہ 14 مارچ 2024 کے حکم کے تحت کمیشن کی تشکیل برقرار رکھی گئی۔ مزید برآں عدالت نے واضح کیا کہ قانونی حیثیت اور عملی کارروائی دو الگ معاملات ہیں۔

درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ کمیشن نے ان کے دلائل کو نظر انداز کیا اور منفی ریمارکس دینے سے قبل انہیں مناسب موقع فراہم نہیں کیا۔ تاہم ان کے مطابق اس عمل سے ان کی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔

درخواستیں، دلائل اور حتمی فیصلہ | Ghosh Commission Report

یہ فیصلہ ان درخواستوں کے بعد سامنے آیا جو کے چندر شیکھر راؤ، ٹی ہریش راؤ، افسر سمیتا سبھروال اور سابق چیف سیکریٹری ایس کے جوشی کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔ انہوں نے کمیشن کی تشکیل اور اس کے طریقہ کار دونوں کو چیلنج کیا تھا۔

کمیشن نے کالیشورم لفٹ اریگیشن اسکیم کے تحت میڈی گڈا، انارام اور سندیلا بیراجز کی تعمیر اور دیکھ بھال میں مبینہ بے ضابطگیوں کا جائزہ لیا تھا۔ دوسری جانب ریاستی حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے، جن میں نوٹس جاری کرنا اور سماعتیں شامل تھیں۔

آخرکار عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ سنایا اور گھوش کمیشن رپورٹ کو مؤثر طور پر روک دیا۔ لہٰذا یہ فیصلہ ریاستی سطح پر ایک اہم قانونی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جبکہ آئندہ کارروائی کے لیے نئی سمت متعین کرتا ہے۔