حیدرآباد ۔ حیدرآباد ٹریفک پولیس نے نفاذی جانچ کے دوران جعلی نمبر پلیٹ معاملہ بے نقاب کرتے ہوئے تفصیلات عطار پور پولیس کے حوالے کیں جس کے بعد ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم جعلی رجسٹریشن نمبر استعمال کرکے ٹریفک چالانات سے بچنے کی کوشش کررہا تھا۔ اس واقعہ نے گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبر کے غلط استعمال پر ایک بار پھر تشویش بڑھادی ہے۔
پولیس نے ملزم کی شناخت سید رضوان علی کے طور پر کی جو راجندر نگر کے اپر پلی علاقہ کا رہنے والا ہے۔ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ملزم مبینہ طور پر ایم ایچ 04 کے ڈبلیو 7706 نمبر استعمال کررہا تھا۔ مزید برآں اسی جعلی نمبر کی وجہ سے اصل گاڑی مالک کے نام پر ٹریفک چالانات جاری ہورہے تھے۔
ٹریفک چالانات میں جعلسازی | Fake Registration
عطار پور پولیس نے اس معاملہ میں بھارتیہ نیایا سنہتا اور موٹر وہیکلز ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔ حکام نے ملزم کو بی این ایس ایس کی دفعہ 35(3) کے تحت نوٹس بھی جاری کیا۔ اسی دوران پولیس اصل رجسٹریشن نمبر کی شناخت کے لیے مزید تحقیقات کررہی ہے۔
پولیس عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جعلی یا تبدیل شدہ نمبر پلیٹ استعمال کرنا قابل سزا جرم ہے۔ لہٰذا شہریوں کو گاڑیوں کے دستاویزات اور رجسٹریشن تفصیلات میں کسی بھی غیر قانونی تبدیلی سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ مزید یہ کہ اس طرح کے جرائم ٹریفک نظام اور اصل گاڑی مالکان کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔
شہریوں کو احتیاطی مشورہ | Fake Registration
حیدرآباد ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی کہ اگر کسی گاڑی کے رجسٹریشن نمبر کے غلط استعمال کا شبہ ہو تو فوری اطلاع دی جائے۔ حکام نے بتایا کہ شہری ای-چالان پورٹل، سرکاری ای میل یا واٹس ایپ ہیلپ لائن کے ذریعے شکایت درج کراسکتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد جعلی رجسٹریشن کے استعمال کو روکنا اور ٹریفک نگرانی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
پولیس نے واضح کیا کہ شہر میں نفاذی کارروائیاں مزید سخت کی جائیں گی تاکہ جعلی نمبر پلیٹ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر قابو پایا جاسکے۔ اسی لیے شہریوں سے قانون کی پابندی اور مشتبہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع دینے کی اپیل کی گئی ہے۔
