حیدرآباد: حیدرآباد یونیورسٹی نے پیچیدہ ساخت اور غیر معمولی مضبوطی رکھنے والے سیرامک اجزا تیار کرنے کا ایک نیا طریقہ پیٹنٹ کروا کر تحقیق کے میدان میں اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ پیش رفت ادارے میں عملی تحقیق اور صنعت سے جڑے سائنسی کام کو نئی سمت دیتی ہے۔
یونیورسٹی کے شعبہ طبیعیات سے تعلق رکھنے والے پروفیسر وی سیشو بائی کی قیادت میں کام کرنے والی تحقیقی ٹیم کو یہ پیٹنٹ 7 جنوری 2026 کو دیا گیا۔ اس کامیابی کو یونیورسٹی کے لیے ایک نمایاں تحقیقی سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس طریقہ کار کے ذریعے ایلومینا سے بنے سیرامک اجزا تقریباً 99 فیصد یکساں کثافت کے ساتھ تیار کیے جا سکتے ہیں۔ ان اجزا میں تقریباً 3 ایم پی اے اسکوائر روٹ میٹر فریکچر ٹف نیس اور 390 ایم پی اے کے قریب فلیکسرل اسٹرینتھ ریکارڈ کی گئی ہے۔
جدید طریقہ تیاری کی تفصیل | Ceramic Innovation
تحقیقی ٹیم نے بتایا کہ پیٹنٹ شدہ طریقے میں سیرامک سلری کو جیل کاسٹنگ کے ذریعے ایکسپینڈڈ پولی اسٹائرین کے سانچوں میں ڈھالا جاتا ہے۔ یہ سانچے سی اے ڈی پر مبنی جدید کٹنگ تکنیک سے تیار کیے جاتے ہیں۔
اس طریقے کے نتیجے میں نہ صرف انتہائی درستگی حاصل ہوتی ہے بلکہ مواد کا معیار بھی یکساں رہتا ہے۔ سانچے آسانی سے الگ ہو جاتے ہیں جس سے سیرامک جسم کو نقصان پہنچنے کا خدشہ نہیں رہتا۔
صنعت اور طب میں استعمال | Ceramic Innovation
محققین کا کہنا ہے کہ یہ تکنیک صرف ایلومینا تک محدود نہیں بلکہ زرکونیا اور ٹنگسٹن کاربائیڈ جیسے دیگر سیرامک مواد پر بھی لاگو کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مضبوطی بڑھانے والے اجزا پورے کمپوننٹ میں یکساں طور پر پھیل جاتے ہیں، جس سے مجموعی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔
انہی خصوصیات کے باعث اس ایجاد کے استعمال کے امکانات آٹوموبائل، ایرو اسپیس اور طبی شعبوں میں خاصے نمایاں ہیں۔ اس میں جراحی امپلانٹس کے لیے پرزہ جات کی تیاری بھی شامل ہے۔
محققین نے اس طریقہ کار کو کم لاگت اور صنعت دوست قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت یونیورسٹی کے ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور اطلاقی تحقیق کے کردار کو مزید مضبوط بناتی ہے۔
اس ایجاد میں شامل موجدین میں ڈاکٹر وی سیشو بائی، ڈاکٹر ٹی راج شیکھرن، ڈاکٹر پی جیون کمار، مسٹر پولی روز، مسٹر پون کمار ورما اور ڈاکٹر اے راج نیکانت شامل ہیں، جو شعبہ طبیعیات اور حیدرآباد یونیورسٹی سے منسلک تحقیقی مراکز کی نمائندگی کرتے ہیں۔
