Telangana Rights Row
حیدرآباد ۔ بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راما راو نے تلنگانہ سے متعلق ریمارکس پر آندھرا پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ پون کلیان کو سخت جواب دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست اس کے عوام کی ہے، تاہم یہاں ہر شخص کا خیر مقدم کیا جاتا ہے۔
پون کلیان کے بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کے ٹی راما راو نے کہا کہ کسی نے بھی جنا سینا سربراہ کے تلنگانہ آنے پر اعتراض نہیں کیا۔ تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ تلنگانہ یومِ تاسیس کے موقع پر حیدرآباد میں عوامی جلسہ منعقد کرنے کی تجویز کیوں پیش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست 4 کروڑ عوام کی ملکیت ہے اور اس کے فیصلے بھی عوام کی خواہشات کے مطابق ہونے چاہئیں۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ ریاست میں آنے پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہے۔
علاقائیت کے بیان پر اختلاف | Telangana Rights Row
کے ٹی راما راو نے پون کلیان کے اس مبینہ بیان کو بھی مسترد کیا جس میں علاقائیت کو دہشت گردی سے زیادہ خطرناک قرار دیا گیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ایسا ہے تو کیا الگ آندھرا ریاست کے لیے پوٹی سری رامولو کی قیادت میں چلائی گئی تحریک کو بھی اسی نظر سے دیکھا جانا چاہیے؟
مزید برآں انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کئی صنعتوں کو تلنگانہ سے گجرات منتقل کیا۔ ان کے مطابق قوم پرستی کے نام پر معاشی علاقائیت کو فروغ دینا بھی ایک اہم سوال ہے جس کا جواب دیا جانا چاہیے۔
کے سی آر کی قیادت پر زور | Telangana Rights Row
سابق وزیر نے کہا کہ بھارتی آئین ہر شہری کو ملک کے کسی بھی حصے میں سیاسی جماعت قائم کرنے اور انتخابات لڑنے کا حق دیتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جنا سینا نے 2018 اور 2023 کے انتخابات میں تلنگانہ میں حصہ بھی لیا تھا۔
دریں اثنا کے ٹی راما راو نے پون کلیان کے ایک سابق بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ تلنگانہ کے قیام کے بعد وہ 11 دن تک کھانا نہیں کھا سکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب اسی رہنما کا یہ دعویٰ کرنا کہ وہ تلنگانہ کے مخالف نہیں تھے، حیران کن ہے۔
کے ٹی راما راو نے زور دے کر کہا کہ تلنگانہ کے جذبات اور امنگوں کی نمائندگی کے لیے بی آر ایس صدر کے چندر شیکھر راو ہی کافی ہیں۔ انہوں نے کے سی آر کو تلنگانہ تحریک کا اصل علمبردار قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ پون کلیان کا آندھرا پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ، ایک بھائی اور فلمی اداکار کی حیثیت سے احترام کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ تلنگانہ کے سیاسی معاملات میں اثر انداز ہونے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
పవన్ కళ్యాణ్.. ముమ్మాటికీ తెలంగాణ ఈ భూమి పుత్రుల జాగీరే.. ఇక్కడున్న నాలుగు కోట్ల మంది జాగీరే.
100% ఈ నేల కోసం కష్టపడ్డ వాళ్లు, ఈ నేల కోసం పోరాటాలు చేసినవాళ్లు, ఈ నేల కోసం త్యాగాలు చేసినవాళ్లు, నెత్తురుతో తడిచిన నేల ఇది.
ప్రాంతీయవాదం ఉగ్రవాదం కంటే ప్రమాదం అన్న పవన్ కళ్యాణ్ కు… pic.twitter.com/7FadGwGzzF
— BRS Party (@BRSparty) June 3, 2026
