حیدرآباد: یونین وزیر جی کشن ریڈی نے جمعرات کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) پر سخت تنقید کی اور کہا کہ جوبلی ہلز کے ضمنی انتخاب سے ایم آئی ایم کا دور رہنا اس کے ’’خوف اور سیاسی غیر یقینی‘‘ کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق، ایم آئی ایم ’’تلنگانہ کے لیے ایک لعنت‘‘ بن چکی ہے اور اس کے رہنما حیدرآباد میں سرگرم جرائم پیشہ گروہوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔
جی کشن ریڈی نے کہا کہ بعض پولیس افسران مبینہ طور پر ’’سلاٹر ہاؤس مافیا‘‘ کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، جنہیں ایم آئی ایم کے رہنما کنٹرول کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی نے اب تک 39 غیر قانونی سلاٹر ہاؤسز کی شکایات درج کرائی ہیں، مگر حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ ’’ریاستی حکومت نے اپنے سیاسی اتحادیوں کو بچانے کے لیے خاموشی اختیار کر لی،‘‘ انہوں نے الزام لگایا۔
ایم آئی ایم کے سیاسی اثر پر حملہ | MIM Politics
جی کشن ریڈی نے کہا کہ جوبلی ہلز کا ضمنی انتخاب دراصل ’’حیدرآباد کے مستقبل کی جنگ‘‘ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر شہری ایم آئی ایم کے غلبے کا خاتمہ چاہتے ہیں تو انہیں بی جے پی کا ساتھ دینا ہوگا۔ یہ صرف ایک انتخابی نشست نہیں بلکہ شہر کی دیانت اور وقار کی بحالی کا موقع ہے۔‘‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوامی رجحان تیزی سے بی جے پی کے حق میں جا رہا ہے۔ ’’لوگ خوف کی سیاست کو مسترد کر رہے ہیں اور مساوات، سلامتی اور بہتر حکمرانی کا مطالبہ کر رہے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔ ان کے مطابق، یہ ضمنی انتخاب بی جے پی کی 2028 کی کامیابی کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔
جی کشن ریڈی نے کہا کہ ’’یہ ووٹ قانون شکنی کے خلاف ریفرنڈم ہونا چاہیے۔ عوام اپنے ووٹ سے برسوں کے خوف کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔‘‘
بی آر ایس اور کانگریس پر بھی تنقید | MIM Politics
جی کشن ریڈی نے الزام لگایا کہ بی آر ایس اور کانگریس دونوں نے جوبلی ہلز کے شہری مسائل کو مسلسل نظرانداز کیا۔ ان کے بقول، ’’شہری سہولتیں، سڑکیں اور نکاسی نظام تباہی کا شکار ہیں، جبکہ بدعنوانی فروغ پا رہی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی ہی وہ واحد جماعت ہے جو عوامی مسائل کو سنجیدگی سے اٹھا رہی ہے۔‘‘ ان کے مطابق، ’’سڑکوں اور بنیادی خدمات کی حالت ابتر ہے، مگر بی جے پی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔‘‘
جی کشن ریڈی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی امیدوار لنکالا دیپک ریڈی کو ووٹ دیں تاکہ شفاف اور دیانت دار حکمرانی قائم ہو سکے۔ ’’ہم نعروں پر نہیں، خدمت اور نتائج پر یقین رکھتے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔
انتخابی نتائج تلنگانہ کی سمت طے کریں گے | MIM Politics
جی کشن ریڈی نے کہا کہ جوبلی ہلز کا ضمنی انتخاب تلنگانہ کی سیاسی سمت کا تعین کرے گا۔ ’’جب عوام بدعنوانی اور خوف کے خلاف متحد ہوں گے تو حقیقی جمہوریت سامنے آئے گی،‘‘ انہوں نے کہا۔ ان کے مطابق، ’’یہ الیکشن ایم آئی ایم کے اثر کے خاتمے کی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘
انہوں نے واضح کیا کہ یہ انتخاب صرف ایک نشست کا نہیں بلکہ ’’پوری ریاست کے مستقبل کا سوال‘‘ ہے۔ انتخابات 11 نومبر کو ہوں گے اور ووٹوں کی گنتی 14 نومبر کو ہوگی۔ بی جے پی کے لنکالا دیپک ریڈی سمیت کانگریس اور بی آر ایس کے امیدوار میدان میں ہیں۔
جی کشن ریڈی نے کہا کہ ’’اس انتخاب کا نتیجہ طے کرے گا کہ حیدرآباد ایم آئی ایم کے سایے میں رہے گا یا شفافیت اور ترقی کی راہ اختیار کرے گا۔‘‘
