Property Costs
حیدرآباد ۔ تلنگانہ میں جمعہ سے جائیداد کی رجسٹریشن کے اخراجات میں اضافہ ہو گیا ہے، کیونکہ ریاستی حکومت نے اراضی اور دیگر جائیدادوں کی نظرثانی شدہ مارکیٹ ویلیوز نافذ کر دی ہیں۔ نئی قیمتوں کا اطلاق باضابطہ طور پر شروع ہو چکا ہے اور ان کی تفصیلات محکمہ رجسٹریشن کے انٹیگریٹڈ گریوینس ریڈریسل سسٹم پورٹل پر بھی دستیاب ہیں۔
حکام کے مطابق نئی مارکیٹ ویلیوز کا تعین موجودہ مارکیٹ نرخوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ چنانچہ مختلف اقسام کی جائیدادوں کی خرید و فروخت کے دوران رجسٹریشن اخراجات میں اضافہ متوقع ہے۔
مختلف اقسام کی جائیدادیں متاثر | Property Costs
مارکیٹ ویلیوز میں نظرثانی کا اطلاق زرعی اراضی، غیر زرعی زمین، رہائشی پلاٹس، آزاد مکانات اور اپارٹمنٹس سمیت متعدد اقسام کی جائیدادوں پر کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں خریداروں اور سرمایہ کاروں کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ رجسٹریشن فیس ادا کرنا ہوگی۔
مزید برآں ماہرین کا ماننا ہے کہ نئی قیمتیں ریاست کے مختلف علاقوں میں جائیدادوں کی مجموعی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ اسی دوران رئیل اسٹیٹ شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے لین دین کی مجموعی لاگت میں اضافہ ہوگا۔
حکومت کی جانب سے یہ اقدام مارکیٹ ویلیوز کے جامع جائزے کے بعد کیا گیا ہے تاکہ سرکاری قیمتوں کو موجودہ مارکیٹ صورتحال سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔
سب رجسٹرار دفاتر میں غیر معمولی رش | Property Costs
رجسٹریشن اخراجات میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر جمعرات کو ریاست بھر کے سب رجسٹرار دفاتر میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔ ہزاروں خریداروں اور فروخت کنندگان نے نئی قیمتوں کے نفاذ سے قبل اپنے معاملات مکمل کرنے کی کوشش کی۔
بڑھتے ہوئے رش کو دیکھتے ہوئے حکومت نے دفاتر کے اوقات کار شام 7:30 بجے تک بڑھا دیے۔ مزید برآں متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی کہ جن افراد نے پہلے ہی ٹوکن حاصل کر لیے ہیں، ان تمام کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کیا جائے۔
حکام نے بڑھتی ہوئی عوامی آمد کو سنبھالنے کے لیے خصوصی انتظامات بھی کیے تاکہ زیر التوا رجسٹریشنز بروقت مکمل ہو سکیں اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
