Read in English  
       
Mancherial Incident

حیدرآباد ۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریزیڈنٹ کے ٹی راما راو نے منچریال ضلع میں دھان خریداری مراکز کے قریب پیش آئے کسانوں کی اموات کے معاملے پر تلنگانہ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے شدید بارش اور تیز ہواؤں کے دوران 2 الگ الگ واقعات میں 4 کسانوں کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ مزید برآں کئی دیگر کسانوں کے زخمی ہونے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔

کے ٹی راما راو نے جاں بحق کسانوں کے خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے فوری ایکس گریشیا دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے زخمی کسانوں کے لیے بہتر طبی سہولتیں فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔ اسی دوران انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت نے کئی ہفتوں تک فصلوں کی خریداری میں تاخیر کی، حالانکہ کسان اپنی پیداوار پہلے ہی خریداری مراکز تک پہنچا چکے تھے۔

خریداری مراکز پر بدانتظامی کا الزام | Mancherial Incident

کے ٹی راما راو کے مطابق گزشتہ 3 دنوں کے دوران تلنگانہ کے مختلف خریداری مراکز پر 7 کسانوں کی موت ہوچکی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اموات حکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہیں کیونکہ کسانوں کے تحفظ اور بنیادی سہولتوں کو نظر انداز کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ شدید بارش اور خراب موسم کے باوجود کسان اپنی فصلوں کی حفاظت کے لیے خریداری مراکز پر موجود رہے، تاہم مناسب حفاظتی انتظامات نہیں کیے گئے۔ مزید یہ کہ کئی مقامات پر دیواریں اور عارضی ڈھانچے گرنے کے واقعات نے صورتحال کو مزید سنگین بنادیا۔

فوری خریداری اور امداد کا مطالبہ | Mancherial Incident

سابق وزیر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ریاست بھر کے خریداری مراکز اور مارکیٹ یارڈز میں موجود تمام فصلوں کی فوری خریداری کی جائے۔ ان کے مطابق تاخیر کے باعث کسان مسلسل مالی نقصان اور ذہنی دباؤ کا شکار ہورہے ہیں۔

کے ٹی راما راو نے حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کسان مسلسل خریداری میں تاخیر اور غیر محفوظ حالات کی شکایات کرتے رہے، لیکن حکام نے فوری ردعمل نہیں دیا۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ اگر بروقت اقدامات کیے جاتے تو کئی جانیں بچائی جاسکتی تھیں۔

ادھر سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر بحث تیز ہوگئی ہے۔ مختلف کسان تنظیموں نے بھی متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری مالی امداد اور محفوظ خریداری مراکز قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ شدید موسمی حالات کے دوران خریداری مراکز پر بہتر حفاظتی انتظامات ناگزیر ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جاسکے۔