حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے اپنی CM Speech میں واضح اعلان کیا کہ ریاست اپنے حصے کے کرشنا اور گوداوری دریاؤں کے پانی سے ایک قطرہ بھی دستبردار نہیں ہوگی۔ گولکنڈہ قلعہ میں 79ویں یوم آزادی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے جائز حصے کے لیے ہر فورم پر لڑے گی اور کسی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گی۔
وزیراعلیٰ نے سابق حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کالیشورم پراجیکٹ پر 1 لاکھ کروڑروپئے ضائع کیے گئے، لیکن اس کے باوجود آبی ڈھانچہ کمزور رہا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہماری زمینیں مکمل سیراب نہ ہوں، ہم دوسروں کو ایک قطرہ پانی بھی نہیں دیں گے۔ ریونت ریڈی نے ریاست کے آبی حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے قومی پرچم لہرایا اور بھارت کی آزادی کو عدم تشدد کی عالمی مثال قرار دیا۔ انہوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کے 15 اگست 1947 کے خطاب کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ لمحہ ملک کو یکجا کرنے اور واضح سمت دینے والا تھا۔
وزیراعلیٰ نے غربت کے خاتمے اور فلاحی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ریاست میں 3.10 کروڑ عوام کو رعایتی راشن اسکیم کے تحت اعلیٰ معیار کا چاول فراہم کیا جا رہا ہے جو صرف بھوک مٹانے کا نہیں بلکہ غریبوں کی عزت نفس کا بھی معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ راشن شاپس اب کمزور طبقے کے لیے فوڈ سکیورٹی سینٹرز کا کردار ادا کر رہی ہیں۔
زرعی شعبے میں، ریونت ریڈی نے بتایا کہ حکومت نے 2 لاکھ روپئے کے زرعی قرض معاف کرنے کا وعدہ پورا کیا ہے اور ریتھو بھروسہ اسکیم کے تحت بوائی کے موسم سے پہلے کسانوں کو رقوم فراہم کی گئیں۔ صرف 9 دن میں 9,000 کروڑروپئے کسانوں کے کھاتوں میں منتقل کیے گئے۔ گودام مراکز پر ہر دانہ دھان خریدا گیا اور وقت پر ادائیگی کی گئی، جس سے 48 لاکھ کسان مستفید ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کے 78 لاکھ زرعی موٹروں کو مفت بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔
شہری ترقی کے منصوبوں میں، انہوں نے کہا کہ شہری سیلاب کے خطرات کو کم کرنے کے لیے دریائے موسیٰ کو بحال کیا جا رہا ہے اور باپو گھاٹ کو گاندھی سروور کے طور پر ترقی دی جائے گی۔ انہوں نے حیدرآباد میں ہائیڈرا نظام قائم کرنے کا ذکر کیا، جس نے 30,000 کروڑروپئے مالیت کی سرکاری اراضی بچائی اور کئی آبی ذخائر بحال کیے۔
انہوں نے ورنگل اور عادل آباد میں نئے ایئرپورٹس کے قیام، حیدرآباد-بنگلورو راہداری پر منصوبوں اور شہر میں جدید، صاف اور پائیدار انفراسٹرکچر کو ترجیح دینے کا اعلان کیا۔ ریونت ریڈی نے حیدرآباد کے عالمی تشخص پر بھی روشنی ڈالی، جس نے حال ہی میں مس ورلڈ مقابلے کی میزبانی کی۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ 9 دسمبر کو “تلنگانہ رائزنگ-2047” منصوبہ جاری کیا جائے گا، جس کا مقصد ریاست کا جی ڈی پی حصہ 5 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کرنا اور بھارت کی 30 کھرب ڈالر معیشت میں اہم کردار ادا کرنا ہے۔ نوجوانوں کے لیے اسکل یونیورسٹی اور اسپورٹس یونیورسٹی قائم کی جائیں گی تاکہ پیشہ ورانہ مہارت اور کھیلوں میں عالمی سطح پر کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ریاست 8.21 لاکھ کروڑروپئے کے قرض کے بوجھ کے باوجود ترقیاتی منصوبوں پر عمل پیرا ہے اور تمام شعبوں میں قرض کی ادائیگی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔


































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































