Read in English  
       
Cannabis Network

حیدرآباد ۔ تلنگانہ ایگل فورس نے ایک بین الاقوامی ہائیڈروپونک کینابس اسمگلنگ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جو مبینہ طور پر تھائی لینڈ سے بھارت کے مختلف ہوائی اڈوں کے ذریعے منشیات اسمگل کر رہا تھا۔ حکام کے مطابق اس کارروائی نے ایک ایسے منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کیا ہے جس کے روابط ملک اور بیرون ملک مختلف مقامات تک پھیلے ہوئے تھے۔

تحقیقات کا آغاز اس وقت ہوا جب کسٹمز حکام نے حیدرآباد ہوائی اڈے پر ایک مسافر کو 13 کلوگرام سے زائد ہائیڈروپونک کینابس کے ساتھ حراست میں لیا۔ بعد ازاں تفتیش کاروں نے اس کیس کے تانے بانے تھائی لینڈ، ممبئی، گجرات، حیدرآباد اور دیگر مقامات تک پہنچنے کا دعویٰ کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گروہ منشیات کی ترسیل کے لیے ایک منظم طریقہ کار استعمال کر رہا تھا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچنے کے لیے مختلف حربے اپنائے جا رہے تھے۔

کئی شہروں تک پھیلا نیٹ ورک | Cannabis Network

تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ یہ نیٹ ورک مبینہ طور پر سیکڑوں کیریئرز کے ذریعے منشیات کو بھارت منتقل کرتا تھا۔ پولیس کے مطابق اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقم حوالہ چینلز کے ذریعے منتقل کی جاتی تھی تاکہ مالی لین دین کو چھپایا جا سکے۔

مزید برآں تفتیش میں مختلف ریاستوں میں سرگرم افراد اور بیرون ملک موجود رابطہ کاروں کے درمیان تعلقات کا بھی پتہ چلا ہے۔ اسی لیے حکام نے مربوط کارروائیاں شروع کرتے ہوئے نیٹ ورک سے وابستہ تمام افراد کی شناخت اور گرفتاری کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

پولیس نے اس کیس میں متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ تاہم باقی ملزمان کی تلاش اور گرفتاری کے لیے مختلف ٹیمیں مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں۔

مالی اور مواصلاتی ریکارڈ کی جانچ | Cannabis Network

حکام کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد صرف ملزمان کو گرفتار کرنا نہیں بلکہ پورے اسمگلنگ نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کرنا ہے۔ چنانچہ تفتیش کار مالی لین دین، بینکنگ سرگرمیوں اور مواصلاتی ریکارڈ کا بھی تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔

کارروائی کے بعد پولیس نے عوام کو منشیات کے استعمال کے نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے خصوصی انتباہ جاری کیا۔ حکام نے زور دیا کہ کینابس یا دیگر نشہ آور اشیا کو کسی صورت سائنسی بنیادوں پر ثابت شدہ طبی علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔

مزید برآں پولیس نے سافٹ ویئر ملازمین، ڈاکٹروں، تاجروں، کھلاڑیوں اور فلمی صنعت سے وابستہ افراد سے اپیل کی کہ وہ صحت مند طرز زندگی کو فروغ دیں اور معاشرے کے لیے مثبت مثال بنیں۔

حکام نے نوجوانوں کو بھی منشیات، شراب اور دیگر نقصان دہ اشیا سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔ ان کے مطابق طلبہ کو اپنی توجہ تعلیم، کھیلوں اور ذاتی ترقی پر مرکوز رکھنی چاہیے۔

پولیس نے خبردار کیا کہ نشہ آور اشیا کا استعمال نہ صرف صحت کو نقصان پہنچا سکتا ہے بلکہ مستقبل کے مواقع متاثر ہونے اور قانونی کارروائی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔