ATM Cash Theft

حیدرآباد ۔ آئی ایس سدن پولیس حدود میں ایس بی آئی کے اے ٹی ایم میں جمع کرائی جانے والی 17 لاکھ روپے کی رقم مبینہ طور پر لے کر فرار ہونے والے ڈرائیور کی تلاش کے لیے پولیس نے خصوصی کارروائی شروع کر دی ہے۔ واقعے کے بعد مختلف ٹیمیں ملزم اور اس کے ساتھیوں کا سراغ لگانے میں مصروف ہیں۔

ڈیٹیکٹو انسپکٹر سائی پرکاش گوڑ کے مطابق سری نواس، جو جگتیال ضلع کا رہنے والا ہے، تقریباً 4 ماہ قبل ٹیم پی او ایس نامی ایجنسی میں بطور ڈرائیور شامل ہوا تھا۔ یہ ایجنسی ایس بی آئی کے اے ٹی ایمز میں نقد رقم پہنچانے اور لوڈ کرنے کی ذمہ دار ہے۔

پولیس کے مطابق منگل کی دوپہر سری نواس کو اے ٹی ایم میں رقم جمع کرانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ وہ تقریباً 12:30 بجے سنتوش نگر اور رین بازار مین روڈ کے علاقے میں پہنچا جہاں سے اسے متعلقہ اے ٹی ایم میں رقم جمع کرانی تھی۔

پیشگی منصوبہ بندی کا شبہ | ATM Cash Theft

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کارروائی پہلے سے منصوبہ بند تھی۔ پولیس کو شبہ ہے کہ ڈرائیور نے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر منصوبہ تیار کیا تھا۔

تحقیقات کے مطابق کارروائی کے دوران موٹر سائیکل پر آنے والے ایک شخص نے 17 لاکھ روپے پر مشتمل بیگ اپنے قبضے میں لے لیا۔ اس کے بعد دونوں افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ٹیم پی او ایس کے عملے نے پولیس کو آگاہ کیا۔ چنانچہ آئی ایس سدن پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج سے تحقیقات میں پیش رفت | ATM Cash Theft

پولیس نے علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کر لی ہے اور مختلف زاویوں سے شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، ابتدائی معلومات اور دیگر دستیاب ثبوت بھی جمع کیے گئے ہیں۔

حکام نے مقدمہ درج کر کے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جو سری نواس اور دیگر ممکنہ ملزمان کی تلاش میں مصروف ہیں۔ دریں اثنا، نگرانی کیمروں کی ریکارڈنگ کا تفصیلی تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ فرار ہونے والے افراد کی نقل و حرکت کا پتہ چلایا جا سکے۔

انسپکٹر سائی پرکاش گوڑ نے کہا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مفرور ڈرائیور کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا اور واقعے میں ملوث دیگر افراد کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔