Read in English
Asset Probe

حیدرآباد ۔ انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے محکمہ روڈز اینڈ بلڈنگس کے انجینئر اِن چیف موہن نائک سے منسلک 11 مقامات پر منگل کے روز بیک وقت چھاپے مارے۔ یہ کارروائی آمدنی کے معلوم ذرائع سے زائد اثاثوں کے الزام کے تحت جاری تحقیقات کے سلسلے میں انجام دی گئی۔

اے سی بی حکام نے سینئر افسر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد حیدرآباد اور دیگر علاقوں میں واقع مختلف جائیدادوں کی تلاشی شروع کی۔ تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ موہن نائک نے محکمہ میں اپنی خدمات کے دوران اپنی آمدنی سے کہیں زیادہ مالیت کے اثاثے جمع کیے۔

بیک وقت 11 مقامات پر کارروائی | Asset Probe

اے سی بی کی مختلف ٹیموں نے 11 مقامات پر ایک ہی وقت میں تلاشی مہم چلائی۔ اہم کارروائیوں میں سے ایک میاں پور کے ایک گیٹڈ کمیونٹی میں واقع ولا نمبر 98 پر کی گئی۔

ڈی ایس پی سرینواس ریڈی نے اس کارروائی کی نگرانی کی۔ دریں اثنا، تلاشی کے دوران حکام نے متعلقہ مقامات پر عام آمد و رفت کو محدود کر دیا تاکہ تحقیقات میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیموں کو مختلف جائیدادوں کے دستاویزات، مالیاتی ریکارڈ، نقد رقم اور سونے کے زیورات ملے ہیں۔ تاہم حکام نے ابھی تک ضبط شدہ اشیا یا اثاثوں کی مجموعی مالیت کے بارے میں کوئی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔

پرانے الزامات سے تحقیقات کا دائرہ وسیع | Asset Probe

ابتدائی معلومات کے مطابق موہن نائک ماضی میں سڑکوں کی تعمیر سے متعلق ٹینڈرز کی تقسیم کے حوالے سے بھی الزامات کا سامنا کر چکے ہیں۔ شکایات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بعض ٹھیکیداروں کو کنٹریکٹس دینے کے عمل میں بے ضابطگیاں ہوئی تھیں۔

ان شکایات کی بنیاد پر اے سی بی نے ابتدائی جانچ شروع کی تھی، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا گیا۔ چنانچہ موجودہ کارروائی کو اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مختلف مقامات سے حاصل ہونے والے ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، ضبط شدہ مواد کی جانچ مکمل ہونے کے بعد اے سی بی کی جانب سے تفصیلی رپورٹ جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ مبینہ طور پر حاصل کیے گئے اثاثوں کی اصل مالیت کتنی ہے اور آیا یہ اثاثے قانونی ذرائع آمدن سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں۔