Read in English  
       
Fake Seeds Crackdown

حیدرآباد ۔ ضلع رنگا ریڈی میں حکام نے جعلی بیج کی فروخت کو روکنے کے لیے ایک اہم ٹاسک فورس اجلاس منعقد کیا، جس میں سخت اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔ اس اجلاس کا مقصد ریاست کو جعلی بیج سے پاک بنانا ہے، جو کہ حکومت کا ایک بڑا ہدف ہے۔ مزید برآں، حکام نے نگرانی اور نفاذ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کئی فیصلے کیے۔

پس منظر کے مطابق اس ٹاسک فورس میں محکمہ زراعت، پولیس، سیڈ کارپوریشن اور ٹرانسپورٹ محکمہ کے افسران شامل تھے۔ حکام نے ضلع کی سطح پر 3 ٹیمیں، ڈویژن سطح پر 6 ٹیمیں اور منڈل سطح پر 26 ٹیمیں تشکیل دیں تاکہ مؤثر کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔ اس طرح مختلف سطحوں پر مربوط نگرانی کا نظام قائم کیا گیا ہے۔

مربوط کارروائی اور سخت نگرانی | Fake Seeds Crackdown

حکام کے مطابق ضلع میں 474 ریٹیل سیڈ دکانیں، 9 سیڈ پروسیسنگ یونٹس اور 224 لائسنس یافتہ بیج ہولڈرز موجود ہیں۔ تاہم کپاس اور مرچ کی فصلوں میں جعلی بیج کا خطرہ زیادہ پایا گیا ہے۔ اسی لیے زرعی سیزن کے دوران سخت معائنہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مزید یہ کہ جعلی بیج کی تعریف میں بغیر لائسنس تیار کیے گئے، غیر قانونی طور پر فروخت ہونے والے یا بغیر مناسب لیبل کے پیک کیے گئے بیج شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ زائد المعیاد اور کم معیار کے بیج بھی جعلی قرار دیے گئے ہیں۔ نتیجتاً، حکام نے مسلسل نگرانی اور معائنہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

حکام نے یہ بھی طے کیا کہ بیج کے نمونے جمع کر کے ان کی جانچ کی جائے گی اور ضلع کی سرحدوں پر نگرانی کو مزید سخت کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دھوکہ دہی اور ضروری اشیاء کے قوانین کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔

کسانوں کی آگاہی اور قانونی اقدامات | Fake Seeds Crackdown

دوسری جانب حکام نے اس بات پر زور دیا کہ صرف سخت کارروائی کافی نہیں بلکہ کسانوں میں آگاہی بھی ضروری ہے۔ انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ صرف لائسنس یافتہ دکانوں سے بیج خریدیں اور ہر خریداری کی رسید حاصل کریں۔ مزید برآں، غیر مجاز فروخت کنندگان سے بیج خریدنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔

اسی طرح کسان پلیٹ فارمز کے ذریعے تربیتی پروگرام منعقد کیے جائیں گے تاکہ کسان اصلی اور جعلی بیج میں فرق کر سکیں۔ یہ اقدامات دھوکہ دہی سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوں گے۔

اجلاس میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ کپاس کے بیجوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جنہیں مرکزی حکومت کی منظوری حاصل نہیں ہے۔ لہٰذا ان کی کاشت ماحولیاتی تحفظ کے قوانین کے تحت غیر قانونی ہے اور خلاف ورزی پر سزا ہو سکتی ہے۔ مزید یہ کہ گلائفوسیٹ جیسے کیمیکلز کے استعمال کے خلاف بھی خبردار کیا گیا کیونکہ یہ صحت اور ماحول دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔

آخر میں حکام نے واضح کیا کہ جعلی بیج کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے کسانوں کا تعاون انتہائی اہم ہے۔ اس طرح مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہی ضلع میں اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔