Read in English  
       
LPG Price Surge

حیدرآباد ۔ ریاستی تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے 19 کلوگرام کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 993 روپے کے بڑے اضافے کے بعد شہر میں اس کی قیمت 3069 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ جمعہ سے نافذ ہوا، جس کے نتیجے میں کاروباری طبقہ فوری مالی دباؤ کا شکار ہو گیا۔ تاہم، گھریلو صارفین کے لیے 14.2 کلوگرام سلنڈر کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق، نئی دہلی میں بھی اسی نوعیت کے کمرشل سلنڈر کی قیمت 3071.50 روپے مقرر کی گئی ہے۔ اس کے برعکس، گھریلو صارفین کو موجودہ قیمتوں پر ہی ایل پی جی فراہم کی جا رہی ہے، حالانکہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔ مزید برآں، تیل کمپنیاں ہر ماہ کے آغاز میں قیمتوں پر نظرثانی کرتی ہیں، جس کے باعث حالیہ مہینوں میں کمرشل گیس مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔

کمرشل گیس مہنگی | LPG Price Surge

مارچ میں تیل کمپنیوں نے کمرشل ایل پی جی کی قیمت میں پہلی بار 144 روپے کا اضافہ کیا تھا، جبکہ اس کے بعد 1 اپریل کو تقریباً 200 روپے کا مزید اضافہ کیا گیا۔ اب حالیہ 993 روپے کا اضافہ مسلسل تیسری بار قیمتوں میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس طرح، کاروباری لاگت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جو مختلف شعبوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

مزید یہ کہ، ہوٹلوں، ریستورانوں اور دیگر کھانے پینے کے مراکز کے لیے یہ اضافہ براہ راست اخراجات میں اضافے کا باعث بنے گا۔ اس کے نتیجے میں، صارفین کو بھی مہنگی اشیاء کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، کچھ کاروباری افراد متبادل توانائی ذرائع پر غور کر رہے ہیں تاکہ اخراجات کو کم کیا جا سکے۔

عالمی کشیدگی کے اثرات | LPG Price Surge

دریں اثنا، مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی نے عالمی ایندھن سپلائی چین کو متاثر کیا ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع نے آبنائے ہرمز کے ذریعے شپنگ نقل و حرکت میں خلل ڈالا ہے۔ اسی وجہ سے توانائی کی ترسیل میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے، جو قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بنی۔

ماہرین کے مطابق، سپلائی میں رکاوٹ اور توانائی کی ترسیل میں غیر یقینی صورتحال نے کمرشل ایل پی جی کی قیمتوں کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے۔ لہٰذا، اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے مہینوں میں مزید اضافہ بھی متوقع ہے۔

آخر میں، یہ صورتحال نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کر رہی ہے بلکہ مہنگائی کے دباؤ میں بھی اضافہ کر رہی ہے، جس کے اثرات وسیع پیمانے پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔