Read in English  
       
Nomination Dispute

حیدرآباد ۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ورکنگ صدر جگّا ریڈی نے میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد کیے جانے کے معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مدھیہ پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت نے سیاسی مقاصد کے تحت یہ کارروائی انجام دی۔ مزید برآں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس عمل کے ذریعے تلنگانہ کانگریس کی انچارج میناکشی نٹراجن کو راجیہ سبھا میں پہنچنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔

جمعہ کے روز قومی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جگّا ریڈی نے کہا کہ میناکشی نٹراجن کانگریس پارٹی کی ایک بااصول، مخلص اور دیانت دار رہنما کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ تاہم ایسی رہنما کی نامزدگی مسترد کرنا انتہائی ناانصافی کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میناکشی نٹراجن کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ یا زیر التوا قانونی تنازع موجود نہیں ہے۔ مزید برآں ان کا سیاسی ریکارڈ بھی کسی قسم کے تشدد، سڑک بند کرنے کی کارروائیوں یا متنازع سیاسی سرگرمیوں سے پاک رہا ہے۔ چنانچہ ان کی نامزدگی کے مسترد ہونے پر کانگریس حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

میناکشی نٹراجن معاملے پر الزامات | Nomination Dispute

جگّا ریڈی نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت نے دانستہ طور پر ایسے حالات پیدا کیے جن کے نتیجے میں میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو سیاسی مقصد حاصل کرنے کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ تاہم انہوں نے اس دعوے کے حق میں مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ راجیہ سبھا کی محض ایک نشست کے لیے اس نوعیت کے اقدامات کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ مزید برآں کانگریس رہنما نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت کی بعض اہم شخصیات نے بھی اس پورے معاملے میں کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق یہ واقعہ محض ایک انفرادی معاملہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

انتخابی عمل کی شفافیت پر بحث | Nomination Dispute

جگّا ریڈی نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن رہنماؤں کو مختلف ادارہ جاتی ذرائع کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق آئینی اداروں کا سیاسی فائدے کے لیے استعمال جمہوری اقدار کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ لہٰذا انتخابی عمل میں مکمل غیرجانبداری اور شفافیت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے اور انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے منصفانہ رویہ اختیار کیا جائے۔ دوسری جانب اس معاملے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور مختلف جماعتیں اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کر رہی ہیں۔

یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب مدھیہ پردیش میں ہونے والے آئندہ راجیہ سبھا انتخابات کے لیے میناکشی نٹراجن کی نامزدگی کو انتخابی حکام نے مسترد کر دیا۔ دریں اثنا اس فیصلے کے بعد کانگریس نے شدید اعتراضات اٹھاتے ہوئے معاملے کو سیاسی رنگ دے دیا ہے، جبکہ اس پر سیاسی بحث کا سلسلہ جاری ہے۔