حیدرآباد: Telangana Women Federation کے زیرانتظام نارائن پیٹ ضلع میں قائم پیٹرول پمپ نے صرف چھ ماہ میں 15.50 لاکھ روپئے منافع کما کر نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ اقدام اندرا مہیلا شکتی پالیسی کے تحت عمل میں آیا۔ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے اس پیٹرول پمپ کا افتتاح 21 February کو کیا تھا۔ یہ ملک کا پہلا پیٹرول پمپ ہے جو خواتین کی فیڈریشن چلا رہی ہے۔
پس منظر اور تفصیلات
نارائن پیٹ ضلع خواتین فیڈریشن نے سنگارم کراس روڈ پر 1.30 کروڑ روپئے کی لاگت سے اس پیٹرول پمپ کو قائم کیا۔ یہ پمپ بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ کے ساتھ 20 سالہ لیز معاہدہ کے تحت چل رہا ہے اور فیڈریشن ماہانہ 10,000 روپئے کرایہ ادا کرتی ہے۔
ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل مینیجر اور سیلز اسٹاف سمیت 11 خواتین کو جڑچرلہ اور شادنگر پیٹرول پمپوں پر خصوصی تربیت دی گئی۔ حکومت نے انفراسٹرکچر پر 15 لاکھ روپئے خرچ کیے۔ نتیجہ کے طور پر یہ پمپ روزانہ اوسطاً 4,000 لیٹر پیٹرول اور 6,000 لیٹر ڈیزل فروخت کر رہا ہے۔
Telangana Women Federation تربیت اور جائزہ سے بہتر نظام
اس پمپ میں 10 سیلز خواتین کو فی کس 13,200 روپئے ماہانہ تنخواہ دی جا رہی ہے جبکہ مینیجر کو 18,000 روپئے مل رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر ضلع کلکٹر ہر پندرہ دن میں اس پمپ کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ شفاف اور مؤثر انتظام یقینی بنایا جا سکے۔
پیٹرول پمپ کی مینیجر چندرکلا نے بتایا کہ تنخواہوں اور دیگر اخراجات نکالنے کے بعد بھی اس یونٹ نے 15.50 لاکھ روپئے کا خالص منافع کمایا ہے۔
نتیجہ
ماہرین کے مطابق تلنگانہ ویمن فیڈریشن کا یہ منصوبہ خواتین کی معاشی خودمختاری کی جانب اہم قدم ہے اور مستقبل میں دیگر اضلاع کے لیے بھی ایک ماڈل بن سکتا ہے۔
