Read in English  
       
BC Reservations

حیدرآباد: تلنگانہ جاگرُتی کی صدر اور رکن قانون ساز کونسل کلواکنتلا کویتا نے پیر کو مقامی بلدیاتی انتخابات میں پسماندہ طبقات (بی سی) کے لیے 42 فیصد تحفظات BC Reservationsکے مطالبہ پر 72 گھنٹوں کی بھوک ہڑتال کا آغاز کیا۔ انہوں نے اس احتجاج کو ‘آتماگوروا پوراٹم’ یعنی خود احترام کی تحریک قرار دیا اور کہا کہ یہ کوئی سیاسی احتجاج نہیں بلکہ بی سی طبقات کے آئینی حقوق کی جنگ ہے۔

کویتا نے احتجاجی مقام پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ ریاست کا قیام ہی پسماندہ اور محروم طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے عمل میں آیا تھا۔ انہوں نے بی جے پی اور کانگریس دونوں پر الزام عائد کیا کہ وہ بی سی ریزرویشن کے نفاذ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “تلنگانہ اس لیے بنایا گیا کہ ہر طبقہ کو اقتدار میں اس کا حصہ ملے، آج بھی بی سی آبادی کا آدھے سے زیادہ حصہ ہیں، اور انہیں آئینی انصاف ملنا چاہیے۔”

کویتا نے کہا کہ تلنگانہ جاگرُتی نے طویل عرصے سے بی سی حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے اور اسمبلی میں ریزرویشن بل کی منظوری میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کانگریس حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کے لیے الگ 10 فیصد کوٹہ پر بھی وضاحت کرے، اور بی سی و مسلم تحفظات کو الگ الگ تسلیم کیا جائے۔

انہوں نے ریاست تمل ناڈو کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں مقامی بلدیاتی انتخابات کو بی سی کوٹہ کے نفاذ تک 9 سال تک روکا گیا تھا، اور تلنگانہ میں بھی ایسا ہی کیا جائے گا اگر بی سی حقوق کو یقینی نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ “انتخابات انتظار کر سکتے ہیں، پہلے بی سی طبقات کو ان کا حق دیا جائے۔”

کویتا نے ریاستی حکومت پر دھڑنا چوک پر احتجاج کی اجازت نہ دینے پر تنقید کی اور کہا کہ وہ بھوک ہڑتال ہر حال میں جاری رکھیں گی، چاہے گھر میں ہو، اسپتال میں ہو یا پولیس اسٹیشن میں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ “اگر مجھے ہٹایا گیا تو بھی میں جہاں بھی رہوں گی، بھوک ہڑتال جاری رکھوں گی۔”

انہوں نے کہا کہ اگر مرکز نے اسمبلی سے منظورہ ریزرویشن بلز کی منظوری نہ دی تو دہلی کے جنتر منتر پر قومی سطح کا احتجاج کیا جائے گا۔ بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکزی سطح پر دستخط روکنے کے ذمہ دار وہی ہیں اور کانگریس اس مسئلہ پر جواب دہی سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسمبلی میں ایک یادداشت پیش کی گئی جس میں حکومت سے کاماریڈی ڈیکلریشن پر عمل آوری اور 42 فیصد بی سی ریزرویشن کو قانونی جواز فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ کویتا نے تمام بی سی طبقات سے اپیل کی کہ وہ سیاسی تنازعات کو پس پشت ڈال کر متحد ہوں اور اپنے آئینی حقوق کے لیے مل کر جدوجہد کریں۔