Read in English  
       
Education Shift

حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر آئی ٹی و صنعت دوڈیلا سریدھر بابو نے کہا کہ ریاست بھر میں ایک وسیع تعلیمی تبدیلی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق طلبہ کو جدید مارکیٹ کے مطابق اسکلنگ، ری اسکلنگ اور اپ اسکلنگ کی فوری ضرورت ہے۔ وہ یہ خطاب جے این ٹی یو ایچ گلوبل المنی میٹ 2025 میں کررہے تھے جو آج کُوکٹ پلی میں منعقد ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت تعلیم اور صحت دونوں کو یکساں ترجیح دے رہی ہے۔ ریاست میں ایسا ایکو سسٹم تیار کیا جارہا ہے جس سے کوانٹم کمپیوٹنگ، سائبر سکیورٹی اور اے آئی کو فروغ ملے گا۔ بین الاقوامی ماہرین بھی ان شعبوں میں ریاست کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جلد قائم ہونے والا ’’تلنگانہ اے آئی اِنویشن ہب ‘‘ اس سمت میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ ترقی کے باوجود اپنی جڑوں سے وابستگی نہ چھوڑیں اور معاشرے کو کچھ واپس دینا ہمیشہ ترجیح میں رکھیں۔

تلنگانہ کے تعلیمی وژن کی عملی جہتیں | Education Shift

سریدھر بابو نے کہا کہ شہری اسی وقت نظام سے سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں جب اپنی ذمہ داریاں بھی پوری کریں۔ انہوں نے المنی سے اپیل کی کہ وہ اے آئی، کوانٹم کمپیوٹنگ اور سائبر سکیورٹی میں سینٹرز آف ایکسیلنس قائم کرنے میں تعاون کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے انوویشن فنڈز، ری سرچ کلسٹرز، بین الاقوامی مینٹورشپ نیٹ ورکس اور عالمی المنی کونسل کے لیے بھی تعاون کی درخواست کی۔ حکومت نے یقین دلایا کہ ان اقدامات میں ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے نوجوان انجینئروں سے کہا کہ سوچ میں تبدیلی ضروری ہے۔ صرف ملازمت تلاش کرنے کے بجائے ایسے مواقع پیدا کریں جن سے دوسروں کو بھی روزگار ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ عملی مہارت اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتیں مستقبل کی کامیابی کی بنیاد ہیں، جبکہ صرف کتابی علم کافی نہیں۔

جدید ٹیلنٹ کے فروغ کے لیے شراکت داری | Education Shift

تقریب میں تلنگانہ اسٹیٹ کونسل آف ہائر ایجوکیشن کے چیئرمین پروفیسر وی بالا کیستا ریڈی، جے این ٹی یو ایچ کے وائس چانسلر پروفیسر ٹی کشور کمار ریڈی، رجسٹرار پروفیسر وینکُٹیشورا راؤ، ریکٹر ڈاکٹر کے وجے کمار ریڈی اور دیگر اہم شخصیات شریک تھیں۔ شرکا کے مطابق یہ اقدامات ریاست کی تعلیمی سمت کو نئی رفتار دے سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان کوششوں کو مضبوط تعاون ملا تو ریاست عالمی سطح پر صنعت و ٹیکنالوجی کے میدان میں مضبوط حیثیت اختیار کرسکتی ہے۔ اس سمت میں المنی کی شمولیت ایک فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہے۔