حیدرآباد ۔مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے واضح کیا ہے کہ تلنگانہ میں ایندھن کی کوئی کمی نہیں ہے اور پٹرول، ڈیزل اور گھریلو ایل پی جی کی سپلائی مکمل طور پر برقرار ہے۔ اس بیان نے عوام میں پھیلی بے چینی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مزید برآں، انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور غیر ضروری ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں۔
بدھ کے روز آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ساتھ جائزہ اجلاس کے بعد انہوں نے کہا کہ ایندھن کی دستیابی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں غلط معلومات کی وجہ سے عوام میں بے چینی پیدا ہوئی۔ لہٰذا، حکومت نے فوری اقدامات کرتے ہوئے سپلائی کو بڑھایا۔
سپلائی میں نمایاں اضافہ | Fuel Supply
جی کشن ریڈی کے مطابق تلنگانہ میں یومیہ پٹرول سپلائی تقریباً 6400 کلو لیٹر سے بڑھ کر 10300 کلو لیٹر ہو گئی ہے۔ اسی طرح حیدرآباد میں یہ مقدار 3200 کلو لیٹر سے بڑھ کر تقریباً 6400 کلو لیٹر تک پہنچ گئی۔ مزید یہ کہ ڈیزل سپلائی بھی 8000 کلو لیٹر سے بڑھ کر 15500 سے 19300 کلو لیٹر کے درمیان ہو گئی ہے۔
حیدرآباد میں ڈیزل کی سپلائی بھی تقریباً 2700 کلو لیٹر سے بڑھ کر 5060 کلو لیٹر تک پہنچ گئی۔ اس اضافے سے واضح ہوتا ہے کہ سپلائی چین مضبوط اور مستحکم ہے۔ لہٰذا، ایندھن کی کمی کے خدشات بے بنیاد ہیں۔
افواہوں کا اثر اور حکومتی اقدامات | Fuel Supply
ریاست میں موجود 4325 فیول اسٹیشنز میں سے صرف 106 پر عارضی قلت کی اطلاع ملی، جسے حکام فوری طور پر حل کر رہے ہیں۔ مزید برآں، زیادہ تر پٹرول پمپس کو شام تک دوبارہ سپلائی فراہم کر دی جائے گی، جس سے تمام خلاء جلد ختم ہو جائیں گے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ ملک میں پٹرولیم کے وافر ذخائر موجود ہیں اور ریفائنریز سے مسلسل سپلائی جاری ہے۔ تاہم، قیمتوں میں اضافے کی افواہوں نے عوام کو غیر ضروری خریداری پر مجبور کیا، جس کے باعث پٹرول پمپس پر طویل قطاریں دیکھنے میں آئیں۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے آئل کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ سپلائی کو مزید تیز کیا جائے اور اضافی اسٹاک جاری کیا جائے۔ مزید یہ کہ ضروری خدمات اور عام صارفین کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
آخر میں، انہوں نے زور دیا کہ ملک بھر میں ایندھن کی کوئی کمی نہیں ہے اور حکومت تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔ لہٰذا، عوام کو چاہیے کہ وہ گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں اور صرف مستند معلومات پر اعتماد کریں۔
