Housing Fraud
حیدرآباد: الوال پولیس نے جعلی 2 بی ایچ کے ہاؤسنگ دھوکہ دہی کے ایک بڑے معاملے کا پردہ فاش کرتے ہوئے 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے سرکاری مکانوں کی الاٹمنٹ کا جھانسہ دے کر تقریباً 100 افراد کو دھوکہ دیا۔ پولیس نے اس کارروائی کے دوران 79 جعلی سرکاری 2 بی ایچ کے الاٹمنٹ سرٹیفکیٹس اور جرم میں استعمال ہونے والے 3 موبائل فون بھی ضبط کیے ہیں۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت 54 سالہ تمیری گوپی ناتھ پشپلاتا، ان کے 21 سالہ بیٹے تمیری گوپی ناتھ وشال، اور 45 سالہ مہندر سنگھ کے طور پر ہوئی ہے، جو ترملگیری میں رادھا سوامی زیروکس سینٹر کے مالک ہیں۔ تفتیش کے بعد تینوں کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔
سرکاری 2 بی ایچ کے الاٹمنٹ کے نام پر رقم وصولی | Housing Fraud
تحقیقات کے مطابق ملزمان ہر متاثرہ فرد سے 50,000 روپے سے 1 لاکھ روپے تک پروسیسنگ چارجز کے نام پر وصول کرتے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے لوگوں کو یہ یقین دلایا کہ پشپلاتا جی ایچ ایم سی میں ایک سینئر عہدے پر فائز ہیں اور وہ اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے سرکاری 2 بی ایچ کے مکانات الاٹ کرا سکتی ہیں۔
اسی دعوے کو مضبوط بنانے کے لیے متاثرین کو جعلی سرکاری 2 بی ایچ کے الاٹمنٹ سرٹیفکیٹس بھی دیے گئے، تاکہ انہیں یقین ہو جائے کہ ان کی درخواستیں منظور ہو چکی ہیں۔ پولیس کے مطابق تقریباً 100 غریب اور معاشی طور پر کمزور افراد ان دستاویزات کو اصلی سمجھتے رہے اور قریب 3 برس تک مکان ملنے کا انتظار کرتے رہے، تاہم بعد میں انہیں مبینہ دھوکہ دہی کا علم ہوا۔
جعلی سرٹیفکیٹس کی تیاری اور تقسیم کا طریقہ | Housing Fraud
پولیس تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ پشپلاتا اور وشال مبینہ طور پر جعلی الاٹمنٹ سرٹیفکیٹس تیار کرتے تھے اور انہیں متاثرین میں تقسیم کرتے تھے۔ دوسری جانب مہندر سنگھ پر الزام ہے کہ اس نے اپنے زیروکس سینٹر میں ان جعلی سرٹیفکیٹس کا ڈیزائن تیار کیا اور انہیں پرنٹ کیا، جس کے بعد یہ دستاویزات متاثرین کو فراہم کی گئیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اسی منظم طریقہ کار کے ذریعے ملزمان نے سرکاری رہائشی اسکیم کے نام پر لوگوں کا اعتماد حاصل کیا اور انہیں مالی نقصان پہنچایا۔ مزید برآں، ابتدائی جانچ سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ اس دھوکہ دہی میں جعلی دستاویزات کو مرکزی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، تاکہ متاثرین کو شک کا موقع نہ ملے۔
شکایت سے گرفتاری تک، کیس کی تفتیش کا پس منظر | Housing Fraud
یہ معاملہ گوگیکر پرساد کی شکایت کے بعد سامنے آیا، جس کی بنیاد پر الوال پولیس نے 20 مئی 2026 کو کرائم نمبر 489/2026 درج کر کے تفتیش شروع کی۔ بعد ازاں پولیس نے 24 جون کو تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا، جبکہ اس دوران دستیاب شواہد، دستاویزات اور دیگر سراغوں کی مدد سے مبینہ نیٹ ورک کی جانچ آگے بڑھائی گئی۔
پولیس کے مطابق اس معاملے کے اصل ملزم جے راج گنگادھرن کے علاوہ نشا راج، چنٹو راج اور رانی گنج میں واقع راج اینڈ کو ربڑ اسٹیمپس تاحال مفرور ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ خصوصی ٹیمیں ان افراد کا سراغ لگانے اور انہیں گرفتار کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہیں، کیونکہ شبہ ہے کہ جعلی سرٹیفکیٹس کی تیاری اور تقسیم میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔
عوام کے لیے پولیس کی وارننگ اور احتیاطی مشورہ | Housing Fraud
یہ تفتیش ڈپٹی کمشنر آف پولیس چ سری دھر، آئی پی ایس، اور ملکاجگری کمشنریٹ کے دیگر سینئر افسران کی نگرانی میں کی گئی۔ ڈٹیکٹو انسپکٹر کے ویرا بابو، ڈٹیکٹو سب انسپکٹر کے چندر شیکھر اور الوال پولیس ٹیم نے اس کیس کا سراغ لگایا اور مبینہ دھوکہ دہی کے طریقۂ کار کو بے نقاب کیا۔
پولیس نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ سرکاری فوائد، بشمول 2 بی ایچ کے مکانات، ملازمتوں، زمین کی الاٹمنٹ یا فلاحی اسکیموں کے نام پر کسی بھی شخص کو رقم ادا نہ کریں۔ حکام نے شہریوں پر زور دیا کہ ایسے دعووں کی تصدیق متعلقہ سرکاری محکمہ سے ضرور کریں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا 100 اور 112 پر دیں۔
