حیدرآباد: عالمی شہرت یافتہ مؤرخ رام پنیانی نے کہا کہ تاریخ ہمیشہ حکمرانوں، مذاہب اور سیاسی عزائم کے امتزاج کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب سیاست کے لیے تاریخ کو الگ یا مسخ کیا جاتا ہے تو اس سے معاشرتی نفرت جنم لیتی ہے۔
وہ اتوار کے روز نامپلی کے مدینہ ایجوکیشن سینٹر میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ موضوع تھا “درسی کتب میں تاریخ کی مسخ کاری اور اس کے اثرات”۔ یہ پروگرام آل انڈیا پروفیشنلز کانگریس کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔
تاریخ کی نئی تعبیرات پر تنقید | Ram Puniyani
پنیانی نے کہا کہ تاریخ کو سیاسی مفادات کے مطابق دوبارہ لکھنے کا رجحان خطرناک ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ تاریخی شواہد ثابت کرتے ہیں کہ مغل بادشاہ اکبر نے مہارانا پرتاپ کو شکست دی تھی، لیکن راجستھان حکومت نے درسی کتابوں میں اس کے برعکس مواد شامل کر دیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ “رچرڈ ایٹن ریسرچ ٹرسٹ” کی تحقیق کے مطابق اورنگ زیب نے صرف دس مندروں کو منہدم کیا لیکن پچاس سے زائد مندروں کو عطیات دیے، جن میں کامکھیا اور مہاکالیشور جیسے مندروں کے نام شامل ہیں۔
مقررین کے خیالات اور نتیجہ | Ram Puniyani
رام پنیانی نے کہا کہ ذات پات اور چھوا چھوت کے مظالم نے برصغیر میں اسلام کے پھیلاؤ کو فروغ دیا۔ انہوں نے سوامی ویویکانند کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام کا عروج مظلوم طبقات کے لیے ایک تحریکِ نجات کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
تلنگانہ ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین اکنوری مرلی نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی کو نہ تو آنکھیں بند کر کے قبول کیا جا سکتا ہے اور نہ مکمل طور پر مسترد کیا جا سکتا ہے۔
پروفیسر پدمجا شاہ، ڈاکٹر کنچن، لطیف اور ماریہ تبسم نے بھی درسی کتب میں جعلی تاریخی بیانیے کی مذمت کی اور کہا کہ غلط معلومات نوجوان نسل میں نفرت پیدا کر رہی ہیں۔
