حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر آبپاشی اور سول سپلائیز کیپٹن این۔ اُتم کمار ریڈی نے ہفتے کے روز حضورنگر میگا جاب میلہ کا افتتاح کیا، جسے ریاست کی تاریخ کا سب سے بڑا دیہی روزگار ایونٹ قرار دیا گیا ہے۔
یہ دو روزہ میلہ سنگارینی کولیریز اور ڈیجیٹل ایمپلائمنٹ ایکسچینج آف تلنگانہ (DEET) کے اشتراک سے منعقد ہوا، جس میں 275 کمپنیوں اور 40,000 سے زائد امیدواروں نے حصہ لیا۔
وزیر نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد دیہی اور شہری نوجوانوں کے درمیان روزگار کے فرق کو کم کرنا ہے۔ اُنہوں نے بتایا، “دیہات کے پڑھے لکھے نوجوان اکثر زبان کی رکاوٹ اور محدود رسائی کے باعث پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یہ میلہ اُن کے لیے نیا موقع ہے۔”
275 کمپنیاں شریک، افتتاحی دن 250 آفر لیٹرز تقسیم | Mega Job Mela
سیمنٹ، دواسازی، آئی ٹی، مینوفیکچرنگ اور تعمیراتی شعبے سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں نے موقع پر انٹرویوز لیے۔
افتتاح سے قبل ہی 250 امیدواروں کو ملازمت کی پیشکش کی جا چکی تھیں جبکہ ہزاروں مزید انٹرویو کے منتظر تھے۔
اُتم کمار ریڈی نے بتایا کہ انہوں نے ذاتی طور پر کمپنیوں سے رابطہ کیا تاکہ اُنہیں شمولیت کے لیے آمادہ کیا جا سکے۔ اُن کے مطابق، “یہ صرف جاب پلیسمنٹ نہیں بلکہ تربیت اور مہارت میں اضافہ کا بھی منصوبہ ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو حکومت نوجوانوں کو انڈسٹری کے معیار کے مطابق تربیت فراہم کرے گی۔”

انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس قیادت نے حضورنگر اور کوڈاد کے نوجوانوں کی آراء کی بنیاد پر اس میلے کا تصور پیش کیا تاکہ روزگار کے مواقع اُن کے قریب لائے جا سکیں۔
کانگریس حکومت کا دیہی نوجوانوں سے وعدہ | Mega Job Mela
اُتم کمار ریڈی نے بتایا کہ کانگریس حکومت نے گزشتہ 22 ماہ میں 70,000 سرکاری اسامیوں کو پُر کیا ہے۔
انہوں نے گروپ-I، گروپ-II اور سروئیر کے عہدوں پر ہونے والی بھرتیوں کا بھی ذکر کیا، جو وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی اور نائب وزیر اعلیٰ مالو بھٹی وکرمارکا کی نگرانی میں مکمل ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ “یہ جاب میلہ ایک طویل المدتی حکمتِ عملی کی شروعات ہے۔ حکومت اُن امیدواروں کی کارکردگی پر نظر رکھے گی جو منتخب یا تربیت یافتہ ہوں گے تاکہ اُنہیں مسلسل رہنمائی فراہم کی جا سکے۔”
انتظامیہ نے تقریب میں شریک 60,000 افراد کے لیے مفت کھانے اور انتظار گاہوں کا انتظام کیا۔
وزیر نے ضلعی حکام، سنگارینی عملے، DEET افسران، کانگریس کارکنوں اور میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ “یہ تلنگانہ کے لیے ایک سنگ میل ہے۔ حیدرآباد کے باہر اس نوعیت کی بھرتی مہم پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ یہ ہمارے دیہی نوجوانوں پر اعتماد کی علامت ہے۔”
