Read in English  
       
Irrigation Projects

حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر آبپاشی اُتم کمار ریڈی نے کہا ہے کہ کانگریس حکومت ریاست کے تمام بڑے آبپاشی منصوبوں کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے شفافیت، جوابدہی اور تکنیکی درستگی کو حکومت کی ترجیحات میں قرار دیا۔

ایس ایل بی سی اور کالیشورم منصوبوں کی پیش رفت | Irrigation Projects

سکریٹریٹ میں اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کے بعد وزیر نے بتایا کہ سری سیلم لیفٹ بینک کینال (ایس ایل بی سی) سرنگ کا کام دسمبر 2027 تک مکمل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیگڈا، اننارم اور سندیلا بیراجز کی بحالی نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی (این ڈی ایس اے) کی سفارشات کے مطابق کی جائے گی۔

اُتم ریڈی نے کہا کہ ایس ایل بی سی منصوبے کا ہر پندرہ دن بعد جائزہ لیا جا رہا ہے۔ نیشنل جیو فزیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (این جی آر آئی) جلد فضائی سروے شروع کرے گا، جیسے ہی ڈی جی سی اے سے منظوری ملے گی۔انہوں نے کہا ’’یہ منصوبہ جنوبی تلنگانہ کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ اس سے کرشنا دریا کا پانی ہزاروں ایکڑ زمین تک پہنچے گا‘‘ ۔

کالیشورم بیراجز کے لیے ریاست آئی آئی ٹی اور چیف ڈیزائن آرگنائزیشن (سی ڈی او) کے ساتھ شراکت کرے گی۔ پری مونسون ٹیسٹ مکمل ہو چکے ہیں جبکہ پوسٹ مونسون چیک اگلے مرحلے میں ہوں گے۔ ’’ہم ایک سال کے اندر مکمل بحالی منصوبہ تیار کر لیں گے،‘‘ وزیر نے بتایا۔

تمّادیہاٹی، کرشنا تنازعہ اور زیرِ التواء منصوبے | Irrigation Projects

وزیر نے کہا کہ پراناہیتا–چیویلا منصوبے کے تمّادیہاٹی حصے کے لیے نہر کے حتمی راستے کا فیصلہ 22 اکتوبر تک کر لیا جائے گا۔ اس وقت دو تجاویز زیر غور ہیں — میلارم سے سندیلا تک گریوٹی کینال اور سرنگ، یا یلّام پلی سے ڈائیورژن کے ساتھ پمپ اسٹیشن۔ انہوں نے حکام کو دو ہفتوں میں لاگت اور تکنیکی تفصیلات کے ساتھ تقابلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔

Irrigation Projects

انہوں نے بتایا کہ کرشنا واٹر ٹریبونل–II کے مقدمے میں سینئر وکیل ویدیا ناتھن نے تلنگانہ کا مؤقف پیش کیا ہے جبکہ آندھرا پردیش نے اپنا جواب دینا شروع کر دیا ہے۔ اُتم ریڈی نے ہدایت دی کہ تمام قانونی ٹیمیں دہلی میں وکلاء کے ساتھ رابطہ رکھیں اور تفصیلی نوٹس تیار کریں۔

مرکزی حکومت سمکّا–سراکّا منصوبے کے واٹر کلیئرنس کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ سیتما ساگر، مودی کنٹاواگو، چناکا–کوراٹہ اور چنا کالیشورم جیسے منصوبے دہلی میں حتمی منظوری کے مرحلے میں ہیں۔

دیوادولا، ڈنڈی اور ڈیسلٹیشن پالیسی | Irrigation Projects

اُتم ریڈی نے کہا کہ دیوادولا منصوبہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ زمین کے حصول کے لیے 33 کروڑ روپئے جاری کیے گئے ہیں اور لاگت کے نظرثانی شدہ تخمینے بھی منظور ہو چکے ہیں۔ ’’کام تیزی سے جاری ہے، اور موجودہ دورِ حکومت میں منصوبہ مکمل آپریشنل ہو جائے گا،‘‘ انہوں نے کہا۔

ڈنڈی منصوبے کے لیے حکام کو تین دن کے اندر اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ اگلا مرحلہ جلد شروع کیا جا سکے۔

وزیر نے آبپاشی ذخائر سے سلٹ ہٹانے کی نئی پالیسی پر بھی بات کی، جس کے تحت ذخائر کی گنجائش بڑھانے کے لیے کم لاگت والا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔

انہوں نے انٹر اسٹیٹ واٹر ریسورسز وِنگ اور سی ڈی او میں فوری بہتری کی ضرورت پر زور دیا، جن میں نئے تقرر، جدید سافٹ ویئر، اور ٹیلی میٹری سسٹم کے ذریعے ذخائر کی مسلسل نگرانی شامل ہے۔