حیدرآباد ۔ بی آر ایس ایم ایل سی ڈاکٹر داسوجو سراون کمار نے الزام لگایا ہے کہ تلنگانہ محکمہ تعلیم میں ٹینڈرز کا عمل غیر قانونی، من مانی اور بدعنوانی پر مبنی بن چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکزی خریداری نظام کے ذریعے ہزاروں کروڑ روپے کے معاہدوں کو کنٹرول کیا جارہا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر داسوجو سراون کمار نے کہا کہ سابقہ غیر مرکزی خریداری نظام کے تحت رہائشی فلاحی ادارے اور ضلع کلکٹرس مقامی ضروریات کے مطابق ٹینڈرز جاری کرتے تھے۔ ان کے مطابق اس نظام میں مقامی ایم ایس ایم ایز، پدم شالی بنکر خاندان، درزی اور چھوٹی صنعتیں سامان فراہم کرتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ نظام سے مقامی روزگار کو فروغ ملتا تھا اور چھوٹے کاروباروں میں معاشی ترقی تقسیم ہوتی تھی۔ تاہم، ان کا الزام ہے کہ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کانگریس حکومت نے اس نظام کو ختم کرکے مرکزی خریداری ماڈل نافذ کردیا۔
مرکزی خریداری نظام پر شدید اعتراض | Education Tender Scam
ڈاکٹر داسوجو سراون کمار نے الزام لگایا کہ حکومت نے اپوزیشن جماعتوں یا متعلقہ فریقوں سے مشاورت کیے بغیر نیا نظام نافذ کیا۔ انہوں نے اس ماڈل کو “مرکزی بدعنوانی ماڈل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر آفس کے ذریعے بڑے معاہدوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
بی آر ایس رہنما نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے جی او ایم ایس نمبر 17/202 کے ذریعے ایک پروجیکٹ مانیٹرنگ یونٹ قائم کیا۔ ان کے مطابق یہ یونٹ ایس سی ویلفیئر رہائشی اسکولوں کے سکریٹری کے ماتحت کام کررہا ہے جبکہ حال ہی میں شاردا نامی ایک نان-آئی اے ایس افسر کو اہم عہدہ دیا گیا۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ نکولس، آر ایس پروین کمار اور رونالڈ روز جیسے افسران کی جگہ نان-کیڈر عہدیداروں کو تعینات کیا گیا تاکہ بے ضابطگیوں پر سوال نہ اٹھایا جاسکے۔
مقامی صنعتوں کو نقصان پہنچانے کا الزام | Education Tender Scam
ڈاکٹر داسوجو سراون کمار نے کہا کہ ٹینڈرز کی اہلیت کی شرائط بڑی کمپنیوں کے حق میں رکھی گئی ہیں۔ ان کے مطابق یونیفارم کپڑے فراہم کرنے والی کمپنیوں کیلئے 250 کروڑ روپے ٹرن اوور لازمی قرار دیا گیا جبکہ نوٹ بک سپلائرز کیلئے 150 کروڑ روپے ٹرن اوور شرط رکھی گئی۔
انہوں نے کہا کہ شرکاء کو 2 کروڑ سے 4 کروڑ روپے تک کے سالوینسی سرٹیفکیٹس بھی جمع کروانے پڑرہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی شرائط چھوٹے پدم شالی خاندانوں، مقامی صنعتوں اور ایم ایس ایم ایز کو ٹینڈرز سے باہر کرنے کیلئے رکھی گئی ہیں۔
مزید برآں، انہوں نے حکومت پر یہ الزام بھی لگایا کہ ٹرالی بیگ، پی ٹی ڈریس اور کمبل جیسے سامان کے ڈیزائن کی تفصیلات پہلے سے فراہم نہیں کی گئیں۔ ان کے مطابق حکومت نے ٹینڈرز میں بنیادی قیمت بھی طے نہیں کی، جس سے کمپنیاں من مانی نرخ درج کرکے معاہدوں کی مالیت بڑھاسکتی ہیں۔
عدالتی ہدایات نظرانداز کرنے کا دعویٰ | Education Tender Scam
بی آر ایس ایم ایل سی نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے 2024 میں جی او ایم ایس نمبر 1 جاری کرتے ہوئے کپڑے سے متعلق مصنوعات تلنگانہ اسٹیٹ ہینڈلوم ویورز کوآپریٹو سوسائٹی لمیٹڈ کے ذریعے خریدنے کی ہدایت دی تھی۔
ان کے مطابق اس حکم کا مقصد ریاست کے تقریباً 40,000 بنکر خاندانوں کا تحفظ تھا، لیکن حکومت نے اس جی او کو نظرانداز کرکے مرکزی خریداری نظام نافذ کردیا۔
بی آر ایس ایم ایل سی نے ورنگل کی ایک ہینڈلوم کوآپریٹو سوسائٹی سے متعلق ہائی کورٹ مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس انیل کمار جکنٹی نے مشاہدہ کیا تھا کہ کوآپریٹو سوسائٹیز کو آئین کے آرٹیکل 43B کے تحت تحفظ حاصل ہے۔
ڈاکٹر داسوجو سراون کمار نے الزام لگایا کہ عدالتی ہدایات کے باوجود حکومت نے ٹی ایس سی او کے بجائے مرکزی خریداری جاری رکھی اور یہ دعویٰ کیا کہ ٹی ایس سی او کے پاس سپلائی صلاحیت نہیں ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ 1,200 کروڑ روپے کے معاہدے ایسی کمپنیوں کو کیسے دیے جارہے ہیں جنہیں بلیک لسٹ کیا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام ٹینڈرز فوری طور پر منسوخ کرکے مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔
بی آر ایس رہنما نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے کارروائی نہیں کی تو پارٹی ریاستی ویجلنس کمیشن، مرکزی ویجلنس کمیشن اور عدالتوں سے رجوع کرے گی۔
