Metro Assets
حیدرآباد ۔ بی آر ایس کے کارگزار صدر کے تارک راما راو (کے ٹی آر) نے حیدرآباد میٹرو کے مجوزہ حصول کے منصوبے پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ریاستی حکومت کی دلچسپی میٹرو ریل سے زیادہ اس منصوبے سے وابستہ قیمتی اراضی میں ہے۔
سری لنگم پلی حلقے میں بی آر ایس کے اہم رہنماؤں اور کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی راما راو نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کی توجہ حیدرآباد میٹرو ریل کی املاک پر مرکوز ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ موجودہ حکومت کے بیشتر بڑے اقدامات کے پیچھے پوشیدہ مقاصد ہوتے ہیں اور میٹرو سے متعلق حالیہ تجویز بھی اسی نوعیت کی ہے۔
کے ٹی راما راو کے مطابق میٹرو ریل کے پاس تقریباً 280 ایکڑ اراضی موجود ہے جس کی مالیت تقریباً 30000 کروڑ روپے ہو سکتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت میٹرو نظام کا کنٹرول حاصل کر کے تقریباً 14000 کروڑ روپے کا مالی بوجھ عوام پر منتقل کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ حصول کے عمل کی تکمیل کے بعد ان زمینوں کو فروخت کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق حکمران جماعت سے قریبی تعلق رکھنے والے افراد ان جائیدادوں کے خریدار بن سکتے ہیں اور مستقبل میں یہ واضح ہو جائے گا کہ زمینیں کس کے پاس گئیں اور ان معاملات کو کس طرح انجام دیا گیا۔
میٹرو توسیع منصوبوں کا دفاع | Metro Assets
کے ٹی راما راو نے سابق بی آر ایس حکومت کے دور میں شروع کیے گئے میٹرو توسیعی منصوبوں کا دفاع بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ کے چندر شیکھر راو (کے سی آر) حکومت نے 72 کلومیٹر طویل میٹرو نیٹ ورک تیار کیا تھا اور مزید توسیع کے منصوبوں کے لیے ٹینڈرنگ کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق حکومت نے شہر کی مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے میٹرو توسیع کی جامع منصوبہ بندی کی تھی۔ چنانچہ مختلف راہداریوں کے ذریعے بڑھتی ہوئی ٹریفک اور شہری توسیع کے چیلنجز سے نمٹنے کی کوشش کی گئی تھی۔
دریں اثنا انہوں نے حالیہ میٹرو منصوبوں سے متعلق حکومتی فیصلوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کئی اہم اقدامات کو غیر ضروری طور پر روک دیا گیا ہے۔
ایئرپورٹ میٹرو منصوبے پر تنقید | Metro Assets
کے ٹی راما راو نے ایئرپورٹ میٹرو کوریڈور کے معاملے پر بھی ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق 2023 میں سابق حکومت نے اس منصوبے کے ٹینڈرنگ عمل کو مکمل کرنے کے ساتھ اس کا باضابطہ آغاز بھی کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ منصوبہ بندی کے تحت رائی درگ سے راجندر نگر کے راستے ہوائی اڈے تک میٹرو رابطہ قائم کیا جانا تھا۔ اس راہداری میں 3 اسٹیشن شامل کیے گئے تھے تاکہ مستقبل میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کیا جا سکے اور شہر کی توسیع میں مدد ملے۔
کے ٹی راما راو نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد اس منصوبے کو منسوخ کر دیا اور اس فیصلے کی کوئی واضح وجہ بھی عوام کے سامنے نہیں رکھی گئی۔
مزید برآں انہوں نے کہا کہ اگر یہ منصوبہ جاری رہتا تو اب تک تکمیل کے قریب پہنچ چکا ہوتا۔ ان کے مطابق اس راہداری کے لیے زمین کے حصول کی ضرورت نہیں تھی اور اسے 2 برس میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ منصوبے کا راستہ آؤٹر رنگ روڈ کے ساتھ رکھا گیا تھا اور اس میں بدویل اور نارسنگی کے مقامات پر اسٹیشن شامل تھے۔ ان کے مطابق اس کا مقصد ٹریفک جام میں کمی اور شہر کی طویل مدتی ترقی میں معاونت فراہم کرنا تھا۔
کے ٹی راما راو نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی اور مرکزی وزیر جی کشن ریڈی کے درمیان حالیہ میٹرو مذاکرات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ان پیش رفتوں کو سیاسی ڈرامہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حقیقی معنوں میں میٹرو کی توسیع صرف حکومت کی تبدیلی کے بعد ہی دوبارہ رفتار حاصل کر سکے گی۔
Live: శేరిలింగంపల్లి నియోజకవర్గ బీఆర్ఎస్ పార్టీ ముఖ్య కార్యకర్తల సమావేశంhttps://t.co/HjYD8dScVG
— BRS Party (@BRSparty) June 23, 2026
