حیدرآباد: تلنگانہ کے کسانوں کو درپیش بجلی سے متعلق مسائل پر پیر کے روز قانون ساز کونسل میں سنجیدہ بحث دیکھنے میں آئی، جب سی پی آئی کے ایم ایل سی نیلیکانتی ستیم نے حکومت کے دعوؤں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان کے مطابق جلے ہوئے ٹرانسفارمرز کی مفت تبدیلی کے سرکاری دعوے درست نہیں۔
ایوان سے خطاب کرتے ہوئے ستیم نے الزام عائد کیا کہ کسانوں کو خراب ٹرانسفارمرز مرمت کے لیے اپنی جیب سے منتقل کرنا پڑتا ہے، جس سے مالی بوجھ بدستور کاشتکاروں پر ہی پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اخراجات کسانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔
بجلی کے کھمبوں پر بھی سوال | Farmers Power
ستیم نے کہا کہ بجلی کے کھمبوں کی صورتحال بھی بدتر ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق سابقہ نظام میں کسان تین ڈیمانڈ ڈرافٹس جمع کرانے پر سات بجلی کے کھمبے حاصل کرتے تھے، لیکن موجودہ طریقہ کار میں صرف ایک کھمبا فراہم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں کسانوں کو باقی کھمبے نجی ذرائع سے خریدنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، جس سے لاگت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے اور زراعت متاثر ہو رہی ہے۔
چیئرمین کی تائید، حکومتی دعوے زیر سوال | Farmers Power
قانون ساز کونسل کے چیئرمین گٹّا سکھندر ریڈی نے ستیم کے نکات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ کسان واقعی ٹرانسفارمرز کی مرمت پر اپنی جیب سے خرچ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود میدان میں ایسے کئی معاملات دیکھے ہیں۔
چیئرمین نے مزید کہا کہ زمینی حقیقت سرکاری بیانات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ان کے مطابق اگرچہ وزیر توانائی بھٹی وکرامارکا کی جانب سے سب کچھ بہتر ہونے کے دعوے کیے گئے ہیں، لیکن عملی صورتحال اس کے برعکس ہے۔
ان ریمارکس کے بعد ایوان میں حکمران جماعت کو خاصی بے چینی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ کسانوں کے بجلی سے متعلق مسائل ایک بار پھر مرکزی موضوع بن گئے۔
