حیدرآباد: تلنگانہ جاگروتی کی صدر اور سابق رکن قانون ساز کونسل کلواکنٹلہ کویتا نے پروفیسر جے شنکر تلنگانہ اسٹیٹ ایگریکلچر یونیورسٹی میں امتحانی پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر کانگریس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق یہ واقعہ حکومت کی ناقص حکمرانی کی واضح مثال ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تادیبی کارروائی کے بعد یہ تنازع سامنے آیا۔ انتظامیہ نے پیپر لیک سے منسلک 4 ملازمین کو معطل کر دیا، جبکہ بی ایس سی ایگریکلچر کے تیسرے سال کے 35 اِن سروس امیدواروں کے داخلے منسوخ کرتے ہوئے انہیں محکمہ زراعت واپس بھیج دیا گیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ کانگریس حکومت اب “لیکیج گورنمنٹ” بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی بھرتی کے عمل میں بے ضابطگیاں سامنے آ چکی ہیں، اور اب زرعی یونیورسٹی کا یہ واقعہ مزید سنگین مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔
امتحانی اسکینڈل | Telangana Paper Leak
کویتا کے مطابق یہ پیپر لیک حکومت کی جانب سے تعلیمی معیار کے تحفظ میں ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے محکمہ تعلیم کی کمزور نگرانی پر سخت اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات طلبہ کے مستقبل کے ساتھ براہِ راست ناانصافی ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ محکمہ تعلیم وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے ماتحت کام کر رہا ہے۔ اس تناظر میں کویتا نے کہا کہ ایسے واقعات نہایت شرمناک ہیں اور ریاست کے تعلیمی نظام پر سوالیہ نشان بن رہے ہیں۔
سیاسی دباؤ میں اضافہ | Telangana Paper Leak
کویتا نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعلیٰ کی توجہ یونیورسٹی کی زمینیں فروخت کرنے پر زیادہ مرکوز ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو طلبہ کے مسائل حل کرنے اور تعلیمی نظام پر اعتماد بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر فوری اصلاحی قدم نہیں اٹھائے گئے تو محکمہ تعلیم کسی اور وزیر کے سپرد کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں خاموشی اختیار کرنا ناقابل قبول ہے۔
ادھر کویتا کی پوسٹ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی، جس کے نتیجے میں پورے تلنگانہ میں سیاسی حلقوں کے اندر نئی بحث چھڑ گئی۔ مبصرین کے مطابق یہ معاملہ آنے والے دنوں میں حکومت کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
